کراچی کے ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں پیش آنے والے المناک سانحے میں جاں بحق افراد کی تعداد متنازع ہو گئی ہے، جہاں انتظامیہ کے مختلف اعلیٰ افسران مسلسل مختلف اعداد و شمار بتا رہے ہیں، جس سے اداروں کے درمیان کمزور کوآرڈنیشن کا تاثر ملتا ہے۔ڈپٹی کمشنر جنوبی جاوید نبی کھوسو نے آج صبح بیان میں کہا کہ گل پلازہ سانحے میں 55 سے 60 افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق 48 لاشوں کا پوسٹ مارٹم مکمل ہو چکا ہے، 14 افراد کی شناخت ہو چکی ہے جبکہ 8 لاشوں کی شناخت ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے کی گئی ہے۔ جاوید نبی کھوسو کا کہنا تھا کہ مجموعی طور پر 86 افراد لاپتا رپورٹ ہوئے تھے۔دوسری جانب گزشتہ رات ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان نے بتایا کہ میزنائن فلور سے مزید 30 لاشیں ملی ہیں، جس کے بعد سانحے میں جاں بحق افراد کی تعداد 63 ہو گئی ہے۔انتظامیہ کے بیانات میں تضاد کے باعث تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ گل پلازہ کے ملبے سے مجموعی طور پر کتنی لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔ ڈی سی جنوبی کے مطابق ملبے کے نیچے موجود ممکنہ لاشوں کو نکالنے کے لیے آپریشن جاری ہے۔مزید برآں، ریسکیو آپریشن کے دورانیے اور تکمیل کے حوالے سے بھی کوئی واضح ٹائم لائن سامنے نہیں آ سکی۔ اس بات پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ سرچ اینڈ ریکوری کے عمل کو ریسکیو آپریشن کیوں قرار دیا جا رہا ہے۔