ریاض: سعودی عرب کی وزارت داخلہ نے منشیات اسمگل کرنے کے جرم میں تین سعودی شہریوں پر سزائے موت نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔وزارت داخلہ کے بیان کے مطابق، سعود الرویلی، مساعد الاشجعی اور خالد الحازمی کو منشیات اسمگلنگ کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ عدالت نے تمام شواہد اور ثبوتوں کی روشنی میں انہیں جرم ثابت ہونے پر موت کی سزا سنائی، جسے بعد ازاں اپیل کورٹ نے بھی تصدیق کی۔ ایوان شاہی نے فیصلے پر عملدرآمد کی منظوری دے دی ہے۔سعودی قوانین کے مطابق، منشیات کی اسمگلنگ یا بڑی مقدار میں رکھنے کے جرائم کو انتہائی سنگین جرم تصور کیا جاتا ہے، جس کے لیے موت کی سزا، طویل قید یا بھاری جرمانہ مقرر ہے۔ عموماً 50 گرام یا اس سے زیادہ ہیروئن، کوکین یا دیگر منشیات کے ساتھ پکڑے جانے پر موت کی سزا دی جاتی ہے، جبکہ کم مقدار پر کئی سال قید یا جرمانہ ہو سکتا ہے۔سعودی عرب میں سزاؤں کا نفاذ بہت سختی سے کیا جاتا ہے، اور ملزمان کو فوری گرفتار کرکے تیز رفتار ٹرائل کے بعد سزا دی جاتی ہے، جو اکثر ایک سے دو ہفتوں میں مکمل ہو جاتا ہے۔یہ فیصلہ سعودی عرب میں منشیات کے خلاف جاری سخت اقدامات کی عکاسی کرتا ہے، جہاں حکومت غیر قانونی منشیات کی نقل و حمل اور تجارت کے خاتمے کے لیے سخت قوانین نافذ کرتی ہے۔