مشرقی کانگو ایک بار پھر دہشت گردی کا نشانہ بن گیا، جہاں اسلامک اسٹیٹ (داعش) سے وابستہ باغیوں نے ایک جنازے پر حملہ کر کے 52 سے زائد شہریوں کو قتل کر دیا۔ اس لرزہ خیز واقعے نے علاقے کو سوگ اور خوف میں مبتلا کر دیا ہے۔واقعے کی تفصیل غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق واقعہ شمالی کیوو صوبے کے لبیرو علاقے کے قصبے نٹویو میں پیش آیا۔ پیر کی رات تقریباً 9 بجے شہری ایک جنازے میں شریک تھے کہ مسلح باغیوں نے اچانک دھاوا بول دیا۔ حملہ آوروں نے شہریوں پر چھریوں، چاقوؤں اور لاٹھیوں سے بے رحمی سے وار کیے۔ایک مقامی منتظم کے مطابق زیادہ تر مقتولین کو چھروں سے مارا گیا، جبکہ متعدد افراد اب بھی لاپتا ہیں۔ لوبیرو کے ملٹری ایڈمنسٹریٹر نے کہا کہ ہلاکتوں کی تعداد 60 تک جا سکتی ہے۔حملہ آور کون تھے؟روئٹرز کے مطابق اس حملے کی ذمہ داری الائیڈ ڈیموکریٹک فورسز (ADF) پر عائد کی جا رہی ہے جو داعش سے وابستہ ہے اور کانگو کے معدنیات سے مالا مال صوبے میں سرگرم ہے۔ یہ گروپ گزشتہ کئی برسوں سے شہریوں پر وحشیانہ حملے کر رہا ہے۔عالمی ردعمل اقوام متحدہ نے واقعے کی شدید مذمت کی ہے اور کانگو کی حکومت نے علاقے میں مزید فوجی تعینات کر دیے ہیں۔ حکام کے مطابق ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔پس منظر
یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ صرف گزشتہ ماہ اے ڈی ایف گروپ کے حملوں میں 50 سے زائد شہری ہلاک ہوئے تھے جبکہ جولائی میں ایک چرچ پر حملے میں 38 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔