لوئر کرم میں کشیدگی بڑھ گئی: دیہات اور بگن بازار شعلوں کی زد میں، سینکڑوں نقل مکانی پر مجبور
کرم میں حالات انتہائی کشیدہ ہوچکے ہیں۔ گزشتہ رات مسلح افراد کے حملوں نے لوئر کرم کے کئی دیہات اور بگن بازار کو خاکستر کر دیا، جبکہ تحصیل ٹل کے متاثرہ علاقوں میں خواتین اور بچوں کو نقل مکانی پر مجبور ہونا پڑا۔
اسسٹنٹ کمشنر کے مطابق، متاثرین کے لیے حکومتی سطح پر فوری اقدامات کیے گئے ہیں، جن میں 1500 سے زائد افراد کے لیے سرکاری عمارتوں میں رہائش فراہم کی گئی ہے۔ تاہم، بالش خیل، سنگینہ، اور خار کلے میں اب بھی بدامنی کا راج ہے، جہاں نادرا آفس اور پیٹرول پمپ کو نذرآتش کرنے کے ساتھ توڑ پھوڑ کی گئی۔
بدترین صورتحال کے پیش نظر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی ہدایت پر اعلیٰ سطح کا وفد کرم روانہ ہوچکا ہے، جس میں وزیر قانون، چیف سیکرٹری، کمشنر کوہاٹ، ڈی آئی جی کوہاٹ اور دیگر اعلیٰ افسران شامل ہیں۔ وفد علاقے میں امن و امان کی بحالی کے لیے جرگے کو دوبارہ فعال کرے گا اور اپنی رپورٹ وزیراعلیٰ کو پیش کرے گا۔
یاد رہے کہ حالیہ دنوں میں دہشت گردی کے واقعات نے لوئر کرم کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ پاراچنار جانے والی مسافر گاڑیوں پر ہونے والے وحشیانہ حملے میں چھ خواتین سمیت 45 افراد جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہوگئے تھے۔ متاثرہ قافلے پشاور سے کرم اور کرم سے پشاور جا رہے تھے۔
یہ سنگین صورتحال امن و امان کی بحالی کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کی متقاضی ہے تاکہ مزید انسانی جانوں کے نقصان اور املاک کی تباہی کو روکا جا سکے۔