“حکومت پاکستان کی عمرہ پالیسی کی تیاری: بھکاریوں کو حجاز مقدس جا کر ملک کا نام بدنام کرنے سے روکنے کے لیے سخت قوانین متعارف کرائے جائیں گے”

“پاکستان کی سخت عمرہ پالیسی: سعودی عرب میں بھکاریوں کی تعداد روکنے کے لیے حکومت نے اہم اقدامات کی تیاری شروع کر دی”

پاکستان میں عمرہ کے بہانے سعودی عرب جانے والے بھکاریوں کے خلاف سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ حکومت پاکستان نے ایک نئی عمرہ پالیسی تیار کی ہے، جس میں زائرین سے بھیک نہ مانگنے کا بیان حلفی لیا جائے گا اور اس کی خلاف ورزی پر سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

ذرائع کے مطابق، ٹور آپریٹرز سے بھی عمرہ زائرین کے بارے میں بیان حلفی لیا جائے گا۔ مزید یہ کہ عمرہ زائرین اب تنہا سعودی عرب نہیں جا سکیں گے، بلکہ گروپ کے ساتھ ہی وہاں جا سکیں گے۔

یہ اقدامات اس لیے ضروری سمجھے جا رہے ہیں کیونکہ سعودی عرب میں پیشہ ور بھکاریوں کی اکثریت پاکستانی ہوتی ہے، جو عمرہ کے بہانے وہاں جا کر ملک کا نام بدنام کرتی ہے۔ اس صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے حکومت نے سعودی عرب کو بھکاریوں کے خلاف کارروائی کی یقین دہانی بھی کرائی ہے۔