“اسلامی نظریاتی کونسل کے فتوے کے بعد سوال: وی پی این استعمال کرنے والے حکومتی و مذہبی شخصیات کفارہ کیسے ادا کریں گی؟”

تفصیلات کے مطابق، اسلامی نظریاتی کونسل نے وی پی این کا استعمال ناجائز قرار دے کر نئی بحث چھیڑ دی ہے، جس سے یہ سوال پیدا ہو گیا ہے کہ ماضی میں وی پی این استعمال کرنے والے افراد، خاص طور پر حکومتی اور مذہبی شخصیات، اس کا کفارہ کیسے ادا کریں گے۔

وزیراعظم شہباز شریف، چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو، مولانا فضل الرحمان، مفتی تقی عثمانی، اور مولانا طاہر اشرفی جیسے نمایاں رہنما وی پی این کا استعمال کرتے رہے ہیں، جسے اب ’’غیر شرعی‘‘ قرار دیا جا رہا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے نومنتخب امریکی صدر کو مبارکباد کا ٹویٹ بھی وی پی این کے ذریعے کیا، جبکہ بلاول بھٹو اور دیگر رہنما اپنے بیانات اور ٹویٹس کے لیے وی پی این کا سہارا لیتے رہے ہیں۔

اس فہرست میں نیب زدہ شخصیات اور وزراء بھی شامل ہیں، جن میں وزیر دفاع خواجہ آصف، وزیر داخلہ محسن نقوی، مشیر رانا ثناءاللہ، اور مریم اورنگزیب شامل ہیں، جو وی پی این کا استعمال کرکے سوشل میڈیا پر متحرک رہے۔

یاد رہے کہ چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل، ڈاکٹر راغب نعیمی، نے وی پی این کے استعمال کو شرعی طور پر ناجائز قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اکثر غیر قانونی مواد تک رسائی اور ملکی سالمیت کے خلاف استعمال ہوتی ہے، اس لیے فوری طور پر ایسی ایپس پر پابندی لگائی جانی چاہیے۔