تفصیلات کے مطابق، پنجاب میں اسموگ نے معمولات زندگی کو بری طرح متاثر کر رکھا ہے، اور لاہور آج بھی فضائی آلودگی کے حوالے سے سر فہرست ہے۔اس صورتحال کے پیش نظر، پنجاب میں مزید پابندیاں عائد کی گئی ہیں، جس کا نوٹیفکیشن ڈی جی ماحولیات نے جاری کیا۔نوٹیفکیشن کے مطابق، لاہور اور ملتان میں تمام تعمیراتی کاموں پر مکمل پابندی عائد کردی گئی ہے، اور صرف قومی سطح کے منصوبوں کو کام کی اجازت ہوگی۔اس کے علاوہ، ہیوی ٹریفک کے دونوں شہروں میں داخلے پر بھی مکمل پابندی عائد کی گئی ہے، جبکہ اینٹوں کے بھٹے اور فرنس انڈسٹریز کا کام بھی بند کر دیا گیا ہے۔
شام 4 بجے تک ریسٹورنٹس میں کھانے کی اجازت ہوگی، لیکن لاہور اور ملتان کے ریسٹورنٹس کو شام 4 سے 8 بجے تک صرف ٹیک اوے سروس کی اجازت دی جائے گی۔مزید برآں، لاہور اور ملتان کے اسپتالوں میں ڈاکٹرز، نرسز اور پیرامیڈیکل اسٹاف کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئی ہیں، اور تمام اسپتالوں کی او پی ڈیز رات 8 بجے تک کھلی رہیں گی۔ ریسکیو ڈبل ون ڈبل ٹو کے اہلکار اسموگ سے متاثرہ مریضوں کی مدد فراہم کریں گے۔ڈی جی ماحولیات نے بتایا کہ ہوٹل رات 8 بجے کے بعد بند ہوں گے، تاہم فارمیسیز، ڈیپارٹمنٹل اسٹورز، ڈیری شاپس، آٹا چکیاں اور تندوروں کو استثنیٰ حاصل ہوگا۔ یہ فیصلے 24 نومبر تک نافذ العمل ہوں گے۔گذشتہ روز حکومت نے آئندہ جمعہ، ہفتہ اور اتوار کو مکمل لاک ڈاؤن کا اعلان کیا تھا، اور کہا کہ اگر صورتحال مزید خراب ہوئی تو لاک ڈاؤن جلد بھی نافذ کیا جا سکتا ہے۔
سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے پریس کانفرنس میں اسموگ کو ’’موت‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ لوگوں کی زندگیوں کا معاملہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کووڈ کے دوران ہمیں احتیاطی تدابیر کی اہمیت کا احساس ہوا تھا، اسی طرح اسموگ میں بھی احتیاط نہ کرنے سے زندگی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔