وفاقی اور بلوچستان حکومت نے کوئٹہ ریلوے اسٹیشن پر خودکش دھماکے کے بعد دہشتگردوں کے خلاف نتیجہ خیز اقدامات کا فیصلہ کیا ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کی زیرِ صدارت کوئٹہ ریلوے اسٹیشن خودکش دھماکے سے متعلق اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں واقعے کی ابتدائی رپورٹ پیش کی گئی۔اجلاس میں دہشتگردوں کے خلاف نتیجہ خیز اقدامات کرنے اور انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کا دائرہ وسیع کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ محسن نقوی نے بلوچستان حکومت کو ترجیحی بنیاد پر ضروری وسائل فراہم کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ وفاقی حکومت صوبے کو ہر ممکن مدد فراہم کرے گی۔ اس موقع پر پولیس اور سی ٹی ڈی کی تربیت و استعداد کار میں اضافے کا بھی عزم کیا گیا۔وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی نے دہشتگردی کے خاتمے کے لیے پولیس اور لیویز کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ ہم بلوچستان سے دہشتگردی کا خاتمہ کر کے دم لیں گے۔ اجلاس میں شہداء کے خاندانوں اور زخمیوں سے اظہارِ یکجہتی بھی کیا گیا۔کوئٹہ میں ریلوے اسٹیشن پر ہونے والے اس خودکش حملے میں 26 افراد جاں بحق اور 60 سے زائد زخمی ہوئے۔ کالعدم بلوچ علیحدگی پسند تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے حملے کی ذمہ داری قبول کی۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق، حملہ آور نے سات سے آٹھ کلو دھماکا خیز مواد جسم سے باندھ رکھا تھا۔