عیدالاضحیٰ کے موقع پر پردیسیوں کی لاہور سے اپنے آبائی گھروں کو واپسی کا سلسلہ جاری ہے۔ عوام کی بڑی تعداد سامان اٹھائے بس اڈوں اور ریلوے سٹیشن کا رخ کر رہی ہے، عید کیلئے اپنے آبائی گھروں کو جانے والے افراد کا کہنا ہے کہ گھر میں عید منانے کا مزہ ناقابل بیان ہے بس اڈوں اور ریلوے سٹیشنز پر شہری ٹکٹوں کے حصول کیلئے دربدر ہیں، بس سٹینڈز میں مسافروں کی سہولت کیلئے بھی ناقص انتظامات ہیں۔ پردیسیوں کا کہنا ہے کہ ٹرانسپورٹرز نے من مانے کرائے وصول کرنا شروع کر دئیے ہیں، ٹرانسپورٹرز کی جانب سے کرایوں میں اضافے سے انہیں شدید مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ انتظامیہ ٹرانسپورٹرز کی جانب سے زائد کرایوں کا نوٹس لے اور اْن کے خلاف کارروائی کی جائے ذرائع کے مطابق لاڑکانہ جانے والے مسافروں سے 1500 کے بجائے 2500 روپے کرایہ لیا جا رہا ہے جبکہ نواب شاہ جانے والے مسافر سے بھی 500 اضافی کرایہ لیا جارہا ہے اسلام آباد کا کرایہ 5 ہزار ہے لیکن ٹرانسپورٹ مافیا مسافروں سے 7000 تک کرایہ وصول کر رہے ہیں۔ حیدرآباد کا کرایہ 500 روپے ہے لیکن مسافروں سے ایک ہزار روپے وصول کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح دیگر شہروں میں بھی ٹرانسپورٹرز کی جانب سے من مانے کرائے وصول کیے جا رہے ہیں۔ ٹرانسپورٹ مافیا کے آگے انتظامیہ خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔