ٹھکراٹھو/مبارکپور تھانے کی حدود نارو پل کے قریب مبینہ پولیس مقابلہ ہوا، جس میں پولیس نے ایک نوجوان انور علی عرف انو ملک کو زخمی حالت میں گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پولیس کے مطابق مقابلے کے دوران تین مشکوک افراد جرائم کی نیت سے موجود تھے جنہوں نے پولیس کو دیکھ کر فائرنگ کی اور فرار ہونے کی کوشش کی۔ پولیس کی جوابی کارروائی میں ایک شخص زخمی ہوا جبکہ اس کے دو ساتھی فرار ہوگئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ زخمی شخص کے قبضے سے موٹرسائیکل، پستول اور گولیاں برآمد ہوئی ہیں۔
دوسری جانب زخمی نوجوان کے اہل خانہ نے پولیس کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے واقعے کو جعلی پولیس مقابلہ قرار دیا ہے۔ اہل خانہ نے ٹھکراٹھو پریس کلب کے سامنے احتجاج کیا اور الزام عائد کیا کہ ایس ایچ او مبارکپور اطہر مہر نے 10 روز قبل نوجوان کو گھر سے اٹھا کر لاپتہ کیا تھا اور رشوت نہ دینے پر اسے مبینہ مقابلے میں زخمی ظاہر کیا گیا۔
احتجاج میں متاثرہ نوجوان کی والدہ، بہنوں اور بھائیوں نے شرکت کی اور اعلیٰ عدالتوں، آئی جی سندھ، ڈی آئی جی سکھر اور ایس ایس پی سکھر سے فوری نوٹس لینے اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
پولیس کے مطابق زخمی شخص مختلف تھانوں میں ڈکیتی کے مقدمات میں مطلوب تھا، جبکہ واقعے کی مزید تفتیش جاری ہے۔