اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے کہا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کی ہر شکل کی سخت الفاظ میں مذمت کرتا ہے اور عالمی امن کے لیے انسدادِ ہشت گردی کی کوششوں میں کثیرالجہتی تعاون جاری رکھے گا۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عاصم افتخار نے کہا کہ پاکستان نے عالمی سداد دہشت گردی کی کوششوں میں بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے 90 ہزار سے زائد قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور بھاری اشی نقصان برداشت کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ القاعدہ کی مرکزی قیادت کو افغانستان میں ناکارہ بنانے میں پاکستان نے فیصلہ کن کردار ادا کیا، جبکہ خطے میں داعش خراسان کے خلاف کارروائیوں میں بھی پاکستان قائدانہ کردار ادا کرتا رہا ہے۔پاکستانی مندوب نے کہا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کو دوبارہ منظم ہونے کا موقع ملا، خصوصاً کابل میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد ان گروہوں کو افغان سرزمین سے استثنیٰ اور مشرقی ہمسائے کی سرپرستی حاصل رہی، جس کے باعث یہ گروہ بلوچستان میں متعدد دہشت گرد حملوں کے ذمہ دار ہیں۔عاصم افتخار کا کہنا تھا کہ داعش کا خطرہ افریقہ اور جنوبی ایشیا سمیت کئی خطوں میں بڑھ رہا ہے۔ یہ تنظیم آن لائن بھرتی، کرپٹو کرنسی اور جدید ٹیکنالوجی استعمال کر رہی ہے، جبکہ افغانستان دہشت گرد گروہوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بنا ہوا ہے، جہاں سے کالعدم ٹی ٹی پی اور دیگر گروہ بلا خوف سرگرم ہیں۔انہوں نے خبردار کیا کہ چھوڑے گئے جدید ہتھیار دہشت گردوں کے ہاتھ لگنے کا سنگین خطرہ ہیں۔ دہشت گرد گروہوں کے سرپرستوں اور مالی معاونین کا احتساب ناگزیر ہے۔ انسدادِ دہشت گردی کے نظام کو منصفانہ اور غیر جانبدار بنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے انتہا پسند دائیں بازو اور اسلاموفوبک نظریات کو بھی عالمی خطرہ قرار دیا اور سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ کالعدم بی ایل اے کو 1267 پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا جائے۔عاصم افتخار نے مسئلہ کشمیر کو ایک بار پھر عالمی فورم پر اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کے زیر قبضہ کشمیر میں ریاستی جبر کی واضح مثالیں موجود ہیں۔ ریاستی دہشت گردی کسی صورت قابل قبول نہیں اور غیر ملکی قبضے کے خلاف جدوجہد کو دہشت گردی سے جوڑنا ناانصافی ہے۔