گل پلازہ کے دکانداروں سے 5500 روپے مینٹیننس وصولی کی خبر جھوٹی قرار صدر منیجمنٹ کمیٹی کی وضاحت

سانحہ گل پلازہ کے بعد جہاں اس کی تباہ کاریوں کے مختلف پہلو سامنے آ رہے ہیں، وہیں سوشل میڈیا پر اس واقعے سے متعلق کئی خبریں بھی وائرل ہو رہی ہیں۔ ان وائرل خبروں میں ایک دعویٰ یہ بھی کیا جا رہا ہے کہ گل پلازہ مارکیٹ ایسوسی ایشن دکانداروں سے ماہانہ 5500 روپے فی دکان مینٹیننس کی مد میں وصول کرتی رہی ہے۔سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی اس خبر کے ساتھ ایک مبینہ رسید کی تصویر بھی شیئر کی جا رہی ہے، جس پر صدر ایسوسی ایشن تنویر پاستا کے نام سے دستخط موجود ہیں۔ اس دعوے کے بعد یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر دکانداروں سے ماہانہ لاکھوں روپے وصول کیے جا رہے تھے تو پلازہ میں فائر الارم اور دیگر حفاظتی انتظامات کیوں موجود نہیں گل پلازہ منیجمنٹ کمیٹی کے صدر تنویر پاستا نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام الیونتھ آور میں اس وائرل خبر کی حقیقت سے پردہ اٹھاتے ہوئے واضح کیا کہ یہ خبر اور رسید دونوں سو فیصد جھوٹی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر میں کسی قسم کا فراڈ کرتا تو رسید پر اپنے دستخط کیوں کرتا۔تنویر پاستا نے مزید نشاندہی کی کہ وائرل رسید پر ’’گل پلازہ مارکیٹ ایسوسی ایشن کا نام درج ہے، جبکہ اصل ادارے کا نام گل پلازہ منیجمنٹ کمیٹی ہے۔ انہوں نے پروگرام کے دوران اصل رسید بھی دکھائی، جس کے مطابق ہر دکان سے ماہانہ صرف 1500 روپے مینٹیننس کی مد میں وصول کیے جاتے ہیںانہوں نے بتایا کہ سانحے کے بعد میڈیا نمائندوں نے دکانداروں سے بھی پوچھ گچھ کی، جس پر دکانداروں نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ مینٹیننس کی مد میں ماہانہ 1500 روپے ہی ادا کیے جاتے تھے۔