ایران میں مظاہروں پر ہلاکتیں صدر ٹرمپ کو ایران پر حملے کے نئے آپشنز پر بریفنگ

ایران میں جاری احتجاجی مظاہروں کے دوران ہلاکتوں کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے نئے آپشنز پر بریفنگ دی گئی ہے۔ بی بی سی فارسی نے بتایا ہے کہ صدر ٹرمپ کوئی قدم اٹھانے کے خواہاں ہیں، تاہم ابھی تک کسی حتمی فیصلے پر نہیں پہنچے ٹرمپ انتظامیہ ایران میں مظاہروں کے تناظر میں تہران میں غیرفوجی اہداف پر حملوں سمیت مختلف فوجی آپشنز پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔ اس سے قبل جون میں امریکا نے ایران اسرائیل جنگ کے دوران ایران کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا۔صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایران آزادی چاہتا ہے اور امریکا ایرانی عوام کی مدد کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے گزشتہ آٹھ روز کے دوران کئی بار کہا کہ اگر ایرانی حکومت مظاہرین پر تشدد کرتی رہی تو امریکا ان کی حمایت میں اقدامات کرے گا۔یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی نے تہران میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کی ہے۔ جمعے کو وائٹ ہاؤس میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران میں مظاہرین ایسے شہروں پر قبضہ کر رہے ہیں جن کے بارے میں کبھی سوچا بھی نہیں گیا تھا اور امریکا ایران کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے