وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے 8 فروری کو دی جانے والی پہیہ جام ہڑتال بری ناکام ہ طرح وہو گی کیونکہ اس کے لیے کسی قسم کی سنجیدہ تیاری موجود نہیں۔ پروگرام ’اعتراض ہے‘ میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے کہا کہ سہیل آفریدی کے لاہور یا کراچی جانے سے حکومت کو کوئی پریشانی نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ چند لوگوں سے خطاب کرنے سے تحریکیں نہیں چلتیں۔رانا ثنااللہ کے مطابق سندھ حکومت نے پی ٹی آئی کے معاملے پر سیاسی رواداری کا مظاہرہ کیا، جبکہ پنجاب میں بھی سہیل آفریدی کو خوش آمدید کہا گیا اور پنجاب اسمبلی آنے کی دعوت دی گئی۔ تاہم انہوں نے 35 افراد کے نام دیے جبکہ اسمبلی 150 افراد کے ساتھ پہنچ گئے، جس سے ماحول خراب ہوا۔سیاسی مشیر نے کہا کہ 8 فروری کے بعد پی ٹی آئی کے پاس مذاکرات کے سوا کوئی راستہ نہیں بچے گا کیونکہ اس وقت پی ٹی آئی کسی تحریک کو چلانے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ ان کے مطابق پہیہ جام ہڑتال دراصل خود پی ٹی آئی کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگی دہشت گردی کے معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کا رویہ قابلِ اعتراض ہے۔ اگرچہ پی ٹی آئی دہشت گردی کی حمایت سے انکار کرتی ہے، لیکن وہ ان افواجِ پاکستان کی بھی کھل کر حمایت نہیں کرتی جو دہشت گردوں کے خلاف برسرِپیکار ہیں۔انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کبھی پی ٹی آئی کے رہنماؤں کو کسی دہشت گردی کے واقعے کی کھل کر مذمت کرتے یا کسی شہید کے گھر جاتے نہیں دیکھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک طرف دہشت گردوں کی مخالفت کا دعویٰ اور دوسری جانب سیکیورٹی فورسز کی حمایت سے گریز ایک متنازع بیانیہ ہے۔رانا ثنااللہ نے واضح کیا کہ مسلم لیگ (ن) میں اختلافِ رائے کی گنجائش موجود ہے اور بعض رہنما مذاکرات کے حق میں نہیں، تاہم حتمی فیصلہ پارٹی قیادت ہی کرتی ہے۔ انہوں نے ایک بار پھر کہا کہ حکومت کو کراچی یا پنجاب میں پی ٹی آئی کی سرگرمیوں سے کوئی خوف نہیں، لیکن اگر کسی نے امن و امان خراب کرنے کی کوشش کی تو اس کے ذمہ دار وہ خود ہوں گے