رضا امیری مقدم نے کہا ہے کہ ایران میں قیمتوں میں اضافے پر تاجروں اور کاروباری حلقوں کی جانب سے کیے گئے پرامن احتجاج کو حکومت نے تسلیم کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ احتجاج جائز مطالبات پر مبنی تھا، تاہم بعض فسادی اور غیر ملکی اثرات کے حامل عناصر نے اس صورتحال کا غلط فائدہ اٹھایا۔ضا امیری کے مطابق ان عناصر نے بازاروں، رہائشی علاقوں اور سرکاری اداروں پر حملے کیے اور پرامن احتجاج کو انتشار میں بدلنے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ ایران کا واضح پیغام ہے کہ امن و امان کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔دوسری جانب ایران میں مقیم پاکستانی شہریوں کی سہولت کے لیے تہران میں پاکستانی سفارت خانے نے کرائسز مینجمنٹ یونٹ قائم کر دیا ہے۔ پاکستانی سفیر مدثر ٹیپو نے کہا کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں پاکستانی شہری یونٹ سے رابطہ کر سکتے ہیں۔سفارت خانے کی جانب سے پانچ ہنگامی رابطہ نمبرز بھی جاری کیے گئے ہیں جو 24 گھنٹے فعال رہیں گے، جبکہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی تفصیلات فراہم کر دی گئی ہیں۔