میانمار: فوجی فضائی حملوں میں 18 افراد ہلاک، زیادہ تر طلبا

میانمار کے دو اسکولز پر فوجی فضائی حملے کے نتیجے میں 18 افراد ہلاک اور 21 زخمی ہو گئے ہیں، ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر طلبا شامل ہیں۔غیرملکی خبرایجنسی کے مطابق یہ حملے تھائے تھاپن گاؤں کے دو پرائیویٹ ہائی اسکولز پر کیے گئے۔ آراکان آرمی نے میانمار فوج پر فضائی حملے کا الزام عائد کیا ہے۔آراکان آرمی، جو رخائن کی نسلی اقلیت کی عسکری شاخ ہے، ملک میں خودمختاری کا مطالبہ کر رہی ہے۔ نومبر 2023 میں یہ گروپ میانمار کے رخائن میں فوجی کارروائیاں شروع کر چکا ہے اور 17 میں سے 14 ٹاؤنز پر قبضہ کر چکا ہے۔میانمار 2021 میں فوجی بغاوت کے بعد سے مسلسل انتشار اور خانہ جنگی کا شکار ہے۔ آنگ سان سوچی کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد ملک میں مظاہروں کو سختی سے دبایا گیا، جس کے نتیجے میں عوام نے ہتھیار اٹھا لیے۔انسانی حقوق تنظیموں کے مطابق ملک کے کئی حصے اب بھی فوج اور مزاحمتی گروپوں کی جھڑپوں سے متاثر ہیں اور اب تک 7,200 سے زائد افراد مارے جا چکے ہیں۔یہ واقعہ میانمار میں تعلیمی اداروں پر حملوں اور ملکی انسانی بحران کی سنگینی کو اجاگر کرتا ہے۔