ساہیوال کی گائے بھارت میں خوشحالی کا ذریعہ بن گئی

مدھیہ پردیش: پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کے باوجود پاکستان کی مشہور ساہیوال گائے بھارت میں خوشحالی اور مٹھاس گھول رہی ہے۔ اس گائے کی زیادہ دودھ دینے کی صلاحیت اور اعلیٰ غذائیت نے بھارتی کسانوں کی آمدنی میں خاطر خواہ اضافہ کر دیا ہے۔ یہ قیمتی نسل پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع ساہیوال سے تعلق رکھتی ہے اور اب بھارت میں بھی اس کی مانگ میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ بھارتی حکومت مختلف منصوبوں کے تحت کسانوں کو ساہیوال نسل کی گائیں فراہم کر رہی ہے تاکہ دودھ کی پیداوار میں اضافہ اور کسانوں کی مالی حالت بہتر ہو سکے ای ٹی وی بھارت کی رپورٹ کے مطابق ریٹائرڈ ویٹرنری ڈاکٹر سریندر چوکسے کا کہنا ہے کہ ساہیوال اور گر گائے دیسی نسلوں میں سب سے بہترین مانی جاتی ہیں۔ عام دیسی گائیں اگرچہ اچھی سمجھی جاتی ہیں لیکن ان کا دودھ کم ہوتا ہے جبکہ ساہیوال گائے دودھ دینے کی صلاحیت میں نمایاں ہے۔ ساہیوال گائے ایک سال میں چار ہزار لیٹر تک دودھ دیتی ہے اور اس کے دودھ میں چکنائی زیادہ ہوتی ہے جو انسانی صحت کے لیے بے حد مفید ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارتی کسان بڑی تعداد میں یہ گائے پال رہے ہیں۔ یہ نسل زیادہ تر پنجاب، ہریانہ اور راجستھان میں پائی جاتی ہے۔ ڈاکٹر چوکسے کے مطابق ساہیوال گائے کی پہچان اس کے سرخی مائل بھورے رنگ، چوڑے سر، چھوٹی ٹانگوں اور پشت پر نمایاں کوہان سے کی جا سکتی ہے۔ گردن کے نیچے سیاہ یا سفید دھبے بھی اسے دیگر گایوں سے منفرد بناتے ہیں جانوروں کی افزائش کے ایک سرکاری منصوبے کے انچارج سونو کدم کا کہنا ہے کہ حکومت کسانوں کی آمدنی بڑھانے کے لیے اس نسل کو فروغ دے رہی ہے۔ چھندواڑہ میں قائم شنکر اینیمل بریڈنگ پروجیکٹ میں اس وقت تقریباً 450 ساہیوال گائیں موجود ہیں، جہاں سے اعلیٰ نسل کی مادہ گائیں مقررہ قیمت پر کسانوں کو فراہم کی جا رہی ہیں۔