پاکستانی انجینئرز کے لیے خوشخبری: چین کے ساتھ تاریخی معاہدہ طے

اسلام آباد: پاکستانی انجینئرز کی تربیت اور استعداد کار بڑھانے کے لیے پاکستان انجینئرنگ کونسل (پی ای سی) اور بڑی چینی کمپنیوں کے درمیان ایک تاریخی معاہدہ طے پا گیا ہے۔ یہ معاہدہ وزیر اعظم شہباز شریف کے حالیہ دورہ چین کے دوران بی ٹو بی کانفرنس میں دستخط کیا گیا۔معاہدے میں تھر کول بلاک ون پاور جنریشن کمپنی، سینو سندھ ریسورسز اور شنگھائی الیکٹرک انجینئرنگ کنسلٹنگ کمپنی شامل ہیں۔ معاہدے کے مطابق سی پیک منصوبوں کے تحت پاکستانی انجینئرز کو عملی تربیت دی جائے گی، ان کے تبادلے ہوں گے اور چینی زبان سیکھنے کے خصوصی مواقع بھی فراہم کیے جائیں گے۔تفصیلات کے مطابق آئندہ پانچ سالوں میں 100 پاکستانی انجینئرز کو تھر کول منصوبے پر براہِ راست تربیت دی جائے گی۔ اس کے علاوہ 350 ملین روپے کے خصوصی اسکالرشپ فنڈ کا قیام عمل میں لایا جائے گا، جس کے ذریعے 175 مستحق طلبہ کو مالی مدد فراہم کی جائے گی۔ مزید برآں، انجینئرز کو آن لائن چینی زبان کا کورس بھی کروایا جائے گا تاکہ وہ عملی میدان میں مزید بہتر کارکردگی دکھا سکیں۔چیئرمین پی ای سی انجینئر وسیم نذیر نے کہا کہ یہ معاہدہ پاکستانی انجینئرز کی عملی تربیت اور بین الاقوامی تجربے کے حصول کے لیے سنگ میل ثابت ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے انجینئرز کے لیے نئے کیریئر کے راستے کھلیں گے اور ملک کے توانائی و صنعتی شعبے کو بھی بھرپور فائدہ پہنچے گا۔