امریکی نیول اکیڈمی میں فائرنگ کی آوازوں سے ہنگامہ، لاک ڈاؤن نافذ

امریکی ریاست میری لینڈ کے شہر ایناپولیس میں واقع امریکی نیول اکیڈمی اچانک گولیوں کی تڑتڑاہٹ سے گونج اُٹھی، جس کے بعد اکیڈمی میں فوری طور پر لاک ڈاؤن نافذ کردیا گیا۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق فائرنگ کا واقعہ مڈشپمین کے زیرِ استعمال بنکروف ہال میں پیش آیا۔ امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ ایک مڈشپ مین کو اکیڈمی سے نکالا گیا تھا، جو مبینہ طور پر مسلح ہوکر واپس آیا اور کمروں کے دروازے کھٹکھٹا کر خود کو ملٹری پولیس کا اہلکار ظاہر کرتا رہا۔یہ واقعہ مقامی وقت کے مطابق شام ساڑھے پانچ بجے رونما ہوا جس سے اکیڈمی میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ادھر دوسری جانب امریکا بھر میں سوگ کی فضا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے قریبی اتحادی اور قدامت پسند تجزیہ کار چارلی کرک کے قتل پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے تین روزہ قومی سوگ کا اعلان کرتے ہوئے حکم دیا کہ وائٹ ہاؤس سمیت تمام سرکاری عمارتوں، فوجی تنصیبات اور بیرونِ ملک سفارتخانوں پر امریکی پرچم اتوار تک سرنگوں رہے گا۔امریکی میڈیا کے مطابق چارلی کرک کو یوٹا ویلی یونیورسٹی میں طلبہ کے بڑے اجتماع سے خطاب کے دوران فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا۔ انہیں گردن پر گولی لگی اور وہ موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے۔ تحقیقات کے مطابق حملہ آور نے ممکنہ طور پر یونیورسٹی کی چھت سے فائرنگ کی۔ ایک مشتبہ شخص کو حراست میں لینے کے بعد رہا کردیا گیا جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ اصل حملہ آور کی فوٹیج سیکیورٹی کیمروں میں موجود ہے۔واقعے کے فوری بعد یونیورسٹی انتظامیہ نے طلبہ کو ہدایت کی کہ وہ اپنے کمروں اور کلاس رومز میں محفوظ رہیں۔خیال رہے کہ چارلی کرک گزشتہ صدارتی انتخابی مہم کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ کے نمایاں ترین حامیوں میں شمار ہوتے تھے۔