اسلام آباد: آٹھ سال بعد حکومتِ پاکستان نے گھریلو صارفین کے لیے نئے گیس کنکشنز کی اجازت دے دی ہے۔ سوئی گیس کمپنیوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ شہریوں کو اب درآمدی ایل این جی (RLNG) کے ذریعے پائپ گیس فراہم کی جائے۔وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ وزیراعظم نے آر ایل این جی کے نئے کنکشنز کے اجرا کی منظوری دے دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ:آر ایل این جی مقامی گیس سے مہنگی ہوگی تاہم ایل پی جی کے مقابلے میں 35 فیصد سستی ہوگی پہلے سے جمع شدہ درخواستوں والوں کو یہ آپشن دیا جائے گا کہ وہ اپنا کنکشن آر ایل این جی پر منتقل کرالیں۔ترجمان کے مطابق نئے گھریلو کنکشن کی قیمت بین الاقوامی خام تیل کے نرخوں سے منسلک ہوگی لیکن ادائیگی پاکستانی روپے میں ہی کی جائے گی۔ صارفین کو متغیر نرخوں پر رضامندی ظاہر کرتے ہوئے حلف نامہ جمع کرانا ہوگا تاکہ مستقبل میں قانونی مسائل پیدا نہ ہوں۔فیس کا ڈھانچہ سیکیورٹی ڈپازٹ: 20,000 روپے 10 مرلے تک گھر: 21,000 روپے10 مرلے سے بڑے گھر: 23,000 روپے درخواست دینے کا طریقہ کار درخواست فارم قریبی ریجنل آفس یا کمپنی کی آفیشل ویب سائٹ سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔فارم بڑے حروف (Capital Letters) میں پُر کیا جائے گا۔ کنکشن کا اجرا نیٹ ورک کی دستیابی پر منحصر ہوگا۔درکار دستاویزات قومی شناختی کارڈ کی کاپی جائیداد کی ملکیت کا ثبوت ہمسایہ جائیداد کا گیس بل فارم اور دستاویزات جمع کرانے کے بعد ایس این جی پی ایل ٹیم سائٹ کا معائنہ کرے گی۔ منظوری کی صورت میں صارف کو پروپوزل لیٹر/ڈیمانڈ نوٹس جاری کیا جائے گا، جس میں انسٹالیشن کے رہنما اصول اور منظور شدہ کنٹریکٹرز کی فہرست شامل ہوگی۔حکام کے مطابق یہ نیا اور آسان طریقہ کار شہریوں کو کم لاگت پر گیس کی سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ سوئی گیس کی سروسز کو مزید بہتر بنانے کے لیے متعارف کرایا گیا ہے۔