ایران کے ایٹمی پروگرام پر معاہدہ لیکن رسائی کی شرائط پر اختلافات

اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے (آئی اے ای اے) اور ایران کے درمیان ایٹمی پروگرام پر تعاون کے معاہدے کے حوالے سے متضاد بیانات سامنے آئے ہیں۔
آئی اے ای اے کا موقف آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے تمام ایٹمی مراکز تک معائنہ کاروں کی رسائی کا معاہدہ طے پا گیا ہے۔ ان کے مطابق یہ معاہدہ تمام تنصیبات اور مراکز پر رپورٹنگ کی ضمانت دیتا ہے اور ایران اور ایجنسی دوبارہ جامع اور بامقصد تعاون شروع کریں گے۔ایران کا موقف
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ معاہدہ معائنہ کاروں کو ہر مرکز تک رسائی کی ضمانت نہیں دیتا بلکہ انہیں صرف بوشہر پلانٹ تک رسائی حاصل ہے۔ ایران مزید بات چیت چاہتا ہے کہ معائنہ کس طرح انجام پائیں گے۔انہوں نے واضح کیا کہ معائنہ کی اجازت ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کی منظوری سے مشروط ہے۔
معاہدے کا پس منظر بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے مصر میں ہونے والے اس معاہدے پر دستخط کیے۔رپورٹس کے مطابق معاہدے میں ایران کی جوہری تنصیبات کے معائنے کی بحالی شامل ہے، تاہم اس معاہدے کی مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔یہ معاہدہ مصر کے وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی، ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی اور آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی کے درمیان ملاقات کے بعد سامنے آیا۔