ناسک (بھارت): موت کے منہ سے واپسی کی ایک حیرت انگیز مثال بھارت میں سامنے آئی جہاں ایک 19 سالہ نوجوان کو ڈاکٹروں نے برین ڈیڈ قرار دیا، لیکن وہ آخری رسومات کے دوران اچانک زندہ ہوگیا۔تفصیلات کے مطابق ریاست مہاراشٹر کے ترمبکیشور تعلقہ کے اڈگاؤں علاقے کا رہائشی بھاؤ چند روز قبل ایک سڑک حادثے میں شدید زخمی ہوگیا تھا۔ اسے ایک نجی اسپتال میں داخل کرایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے اہل خانہ کو بتایا کہ وہ برین ڈیڈ ہے۔اہل خانہ نے اگلے روز آخری رسومات کی تیاریاں شروع کر دیں اور نوجوان کو شمشان گھاٹ لے جایا جا رہا تھا کہ اچانک ارتھی میں بھاؤ نے حرکت کی اور کھانسی آگئی۔ یہ دیکھ کر لواحقین اور وہاں موجود افراد حیران رہ گئے۔فوری طور پر نوجوان کو ناسک کے ضلعی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹرز نے بتایا کہ اس کی حالت تشویشناک ضرور ہے لیکن فی الحال جان کو کوئی خطرہ نہیں۔ بھاؤ کو مسلسل نگرانی میں رکھا گیا ہے اور اسے ہر ممکن طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔نجی اسپتال کی انتظامیہ نے بعد ازاں وضاحت کی کہ بھاؤ کو باضابطہ طور پر مردہ قرار نہیں دیا گیا تھا بلکہ اہل خانہ نے طبی اصطلاحات کو غلط سمجھا۔ اسپتال حکام کا کہنا ہے کہ ڈاکٹرز ہمیشہ درست معلومات فراہم کرنے کی کوشش کرتے ہیں، تاہم بعض اوقات طبی زبان عام لوگوں کے لیے الجھن کا باعث بن سکتی ہے۔