پاکستانی نژاد شبانہ محمود برطانیہ کی نئی وزیر داخلہ مقرر

لندن: برطانوی نائب وزیراعظم اینجیلا رینر کے استعفے کے بعد وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے کابینہ میں بڑے پیمانے پر ردوبدل کرتے ہوئے پاکستانی نژاد رکن پارلیمنٹ شبانہ محمود کو برطانیہ کی نئی وزیر داخلہ تعینات کر دیا۔عالمی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب نائب وزیراعظم اینجیلا رینر نے نئے گھر پر جائیداد ٹیکس کم ادا کرنے کی غلطی پر ندامت ظاہر کرتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔کابینہ میں بڑی تبدیلیاں وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے استعفے کے بعد اپنی ساکھ بحال کرنے کے لیے کابینہ میں اہم تبدیلیاں کی ہیں۔ شبانہ محمود کو وزارت داخلہ دینے کے ساتھ ساتھ ڈیوڈ لامی کو نائب وزیراعظم مقرر کیا گیا ہے۔ ڈیوڈ لامی اس سے پہلے وزیر خارجہ تھے، جبکہ اب یہ ذمہ داری یویٹ کوپر کے سپرد کی گئی ہے، جو اس سے قبل وزیر داخلہ تھیں۔شبانہ محمود کا سیاسی سفر 44 سالہ شبانہ محمود پیشے کے اعتبار سے سابق بیرسٹر ہیں۔ وہ 2010 سے برطانوی پارلیمنٹ کی رکن ہیں اور اپوزیشن کے دور میں متعدد شیڈو وزارتیں سنبھال چکی ہیں۔ وہ حال ہی میں جسٹس سیکریٹری (وزیر انصاف) کے طور پر خدمات انجام دے رہی تھیں۔ شبانہ محمود برطانیہ کی سینیئر مسلمان سیاست دانوں میں شمار کی جاتی ہیں اور لیبر پارٹی کی ابھرتی ہوئی قیادت سمجھی جاتی ہیں۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ انہوں نے جیرمی کوربن کی کابینہ میں شامل ہونے سے انکار کیا تھا، جسے ان کی آزادانہ سیاسی سوچ کی علامت سمجھا جاتا ہے۔اہمیت اور ردعمل شبانہ محمود کی بطور وزیر داخلہ تقرری نہ صرف برطانیہ میں مسلم کمیونٹی کے لیے ایک اہم سنگ میل ہے بلکہ پاکستانی نژاد برطانوی شہریوں کے لیے بھی فخر کا باعث قرار دی جا رہی ہے۔