ریاض/غزہ: سعودی عرب نے اسرائیلی وزیراعظم کی جانب سے رفح کراسنگ سے فلسطینیوں کی بے دخلی کے منصوبے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے ان بیانات کو ناقابل قبول قرار دیا ہے۔سعودی عرب کا مؤقف سعودی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ:”فلسطینیوں کو بے دخل کرنے کے بیانات ناقابل قبول ہیں، ہم فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔”سعودی عرب نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اسرائیلی جارحیت کو روکنے اور فلسطینی عوام کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کرے۔غزہ کی صورتحال خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق اسرائیلی فوج کے ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل اب غزہ شہر کے 40 فیصد حصے پر قابض ہے۔غزہ میں اسرائیل کی شدید اور وحشیانہ بمباری جاری ہے جس کے باعث ہزاروں فلسطینیوں کو اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا ہے، تاہم بڑی تعداد نے اسرائیلی انخلا کی دھمکیوں کو ماننے سے انکار کر دیا ہے۔جانی نقصان غزہ کے محکمہ صحت کے حکام نے بتایا کہ جمعرات کے روز اسرائیلی فضائی اور زمینی حملوں میں کم از کم 53 افراد شہید ہوئے۔ زیادہ تر حملے غزہ شہر اور اس کے مضافات میں کیے گئے۔اسرائیلی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ایفی ڈیفرین نے نیوز کانفرنس میں کہا کہ:”ہم نے غزہ کے زیتون اور شیخ رضوان علاقوں میں پیش قدمی کی ہے، جہاں ہم حماس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔”انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ اسرائیلی فوج اب غزہ شہر کے مرکز سے صرف چند کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔پس منظر غزہ میں اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں اب تک ہزاروں فلسطینی شہید اور زخمی ہو چکے ہیں جبکہ لاکھوں بے گھر ہو کر پناہ گزین کیمپوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔