امریکی صدر ٹرمپ نے پینٹاگون کا نام بدل کر ’’محکمہ جنگ‘‘ رکھ دیا

واشنگٹن: دنیا بھر میں جنگیں رکوانے کے دعویدار امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) کا نام تبدیل کرکے ’’ڈپارٹمنٹ آف وار‘‘ (محکمہ جنگ) رکھ دیا ہے۔ اس سلسلے میں ٹرمپ نے جمعہ کے روز ایگزیکٹو آرڈر پر باضابطہ دستخط کیے۔تقریب میں اعلان وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں ہونے والی نام تبدیلی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ:”پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے دوران اسے محکمہ جنگ کہا جاتا تھا، اب وقت آ گیا ہے کہ ہم چیزوں کو ان کے اصل نام سے پکاریں۔”انہوں نے مزید کہا کہ امریکا دنیا کی سب سے طاقتور فوج رکھتا ہے، جس نے جنگ عظیم اول اور دوم جیتیں۔جنگوں پر ٹرمپ کا مؤقف صدر ٹرمپ نے اپنی پالیسی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت نے دنیا بھر میں جاری سات جنگیں رکوا دیں۔ ان کے مطابق یہ جنگیں عسکری طاقت کے بجائے تجارت اور طاقتور معاشی اقدامات کے ذریعے ختم کرائی گئیں۔یوکرین جنگ پر بات روس اور یوکرین کی جنگ سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ اس تنازعے کو رکوانا مشکل کام ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ:”یوکرین جنگ میں ہر ہفتے تقریباً سات ہزار افراد ہلاک ہو رہے ہیں، امریکا یوکرین کی سیکیورٹی کے حوالے سے متحرک ہے اور ایک سیکیورٹی معاہدہ زیر غور ہے۔” امریکا میں محکمہ دفاع کو 1947 میں موجودہ نام دیا گیا تھا، جبکہ اس سے قبل اسے “ڈپارٹمنٹ آف وار” یعنی محکمہ جنگ کے نام سے ہی جانا جاتا تھا۔ ٹرمپ کے حالیہ فیصلے کو کئی حلقوں میں امریکا کی عسکری پالیسی کے کھلے اظہار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔