امریکی دباؤ بڑھ گیا: بھارت زیادہ دیر واشنگٹن کو نظرانداز نہیں کر پائے گا، سیکریٹری کامرس ہاورڈ لَٹ نِک

امریکی سیکریٹری کامرس ہاورڈ لَٹ نِک نے خبردار کیا ہے کہ بھارت طویل عرصے تک امریکا کے دباؤ کو برداشت نہیں کر پائے گا اور جلد ہی تجارتی مذاکرات کی میز پر واپس آئے گا۔تفصیلات کے مطابق ہاورڈ لَٹ نِک نے جمعہ کو بلومبرگ سے گفتگو میں کہا کہ “ہم توقع کرتے ہیں کہ بھارت معافی مانگے گا اور رکے ہوئے تجارتی مذاکرات دوبارہ شروع کرے گا۔”انہوں نے پیش گوئی کرتے ہوئے کہا کہ ایک یا دو ماہ کے اندر بھارت مذاکرات پر آمادہ ہوگا، اور وزیراعظم نریندر مودی امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ معاہدہ کرنے کی کوشش کریں گے۔ تاہم، یہ فیصلہ ٹرمپ پر منحصر ہوگا کہ وہ مودی کے ساتھ کس انداز میں معاملہ طے کرتے ہیں۔مزید ٹیرف کی تنبیہ امریکی سیکریٹری کامرس نے واضح کیا کہ اگر بھارت نے امریکا کی حمایت نہ کی تو اس کی برآمدات پر مزید ٹیرف عائد کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا:”بھارت محض دکھاوے کے لیے سخت مؤقف اپنائے ہوئے ہے، لیکن آخرکار بھارتی کاروباری طبقہ حکومت پر دباؤ ڈالے گا کہ امریکا کے ساتھ ڈیل کی جائے۔”روسی تیل اور برکس پر تنقید ہاورڈ لَٹ نِک نے بھارت کی روس سے تیل کی خریداری اور برکس بلاک میں شمولیت پر بھی کڑی تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بھارت اپنی منڈی نہیں کھولتا، روسی تیل لینا بند نہیں کرتا اور برکس کا حصہ رہتا ہے، تو اسے 50 فیصد تک ٹیرف ادا کرنے ہوں گے۔ انہوں نے کہا:”یا تو بھارت ڈالر اور امریکا کی حمایت کرے، یا پھر بھاری معاشی قیمت چکائے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ کھیل کب تک چلتا ہے۔”