امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹیکنالوجی کمپنیوں کے مالکان کے اعزاز میں وائٹ ہاؤس میں خصوصی عشائیہ دیا، جس میں بل گیٹس، مارک زکربرگ، ٹم کک، سیم آلٹمین سمیت دیگر عالمی ٹیک آئیکونز شریک ہوئے۔ تاہم اس تقریب میں ایلون مسک کو مدعو نہیں کیا گیا۔غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق عشائیے کے دوران آرٹیفشل انٹیلیجنس اور سرمایہ کاری کے امور پر اہم گفتگو ہوئی۔ مارک زکربرگ نے 600 ملین ڈالر کی نئی سرمایہ کاری کا اعلان کیا، گوگل نے 250 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی یقین دہانی کرائی جبکہ ایپل کے ٹم کک نے بھی مزید سرمایہ کاری کی حمایت کا اعلان کیا۔محکمہ دفاع کا نام تبدیل کرنے کا اعلان تقریب کے دوران امریکی صدر ٹرمپ نے بڑا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ امریکی وزارتِ دفاع کا پرانا نام دوبارہ بحال کیا جائے گا۔ ان کے مطابق اب اسے ایک بار پھر “ڈپارٹمنٹ آف وار” یعنی محکمہ جنگ کہا اور لکھا جائے گا۔روئٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ کل ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کریں گے جس کے بعد وزارتِ دفاع کا نام سرکاری طور پر تبدیل ہو جائے گا۔صدر ٹرمپ نے کہا کہ “محکمہ دفاع سننے میں اچھا نہیں لگتا، ہم کس چیز کا دفاع کر رہے ہیں؟ ماضی میں اس محکمے کا نام محکمہ جنگ ہوا کرتا تھا، یہ سننے میں بھی اچھا لگتا تھا۔ ہم نے پہلی اور دوسری جنگ عظیم سمیت کئی بڑی جنگیں جیتیں۔”