غزہ کے مکینوں کا انخلا سے انکار، “مرنا ہے تو اپنے گھروں میں مریں گے”

غزہ شہر پر اسرائیلی بمباری اور انخلا کے احکامات کے باوجود ہزاروں فلسطینی اپنے گھروں میں موجود ہیں اور انہوں نے شہر چھوڑنے سے انکار کر دیا ہے۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق غزہ سٹی کے مکینوں کا کہنا ہے کہ “ہم گھروں سے نہیں نکلیں گے، مرنا ہے تو اپنے ہی گھروں میں مریں گے۔” مقامی افراد کے مطابق جو لوگ گھروں سے نکلے، اسرائیلی حملوں میں وہ بھی مارے گئے، اس لیے اب جانے کا کوئی فائدہ نہیں۔رپورٹس کے مطابق اسرائیلی زمینی فوج غزہ سٹی کے نواحی علاقوں تک پہنچ گئی ہے، اسرائیلی ٹینک شیخ رضوان کے مشرقی حصے میں داخل ہو کر گھروں کو تباہ کر چکے ہیں۔یورپی یونین کا ردعمل یورپی یونین کی نائب صدر نے غزہ جنگ کو نسل کشی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ یورپ کی ناکامی کو بے نقاب کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یورپ متحد ہوکر بولنے اور کارروائی کرنے میں ناکام رہا ہے۔ واضح رہے کہ یورپی یونین غزہ جنگ پر تقسیم کا شکار ہے، کچھ ممالک اسرائیل کے حامی جبکہ کچھ اس کے مخالف ہیں۔امریکا کا مؤقف امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ غزہ کی جنگ کل ختم ہوسکتی ہے اگر حماس ہتھیار ڈال دے اور یرغمالیوں کو رہا کر دے۔ ان کے مطابق امریکا غزہ میں انسانی بحران پر تشویش رکھتا ہے اور بڑی مقدار میں امداد فراہم کر چکا ہے، مزید امداد جنگ کے دوران اور بعد میں بھی دی جائے گی۔مارکو روبیو نے مغربی کنارے کے اسرائیلی الحاق کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ یہ صرف سیاسی گفتگو ہے، کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔اسرائیل کی دھمکی دوسری جانب اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے یمن کے حوثیوں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اُن پر مزید حملے کیے جائیں گے اور آفات نازل ہوں گی۔