غزہ جنگ، فلسطینی ریاست اور امداد: امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا اہم بیان

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ غزہ کی جنگ کل ختم ہوسکتی ہے اگر حماس ہتھیار ڈال دے اور یرغمالیوں کو رہا کر دے۔غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق ایکواڈور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا غزہ میں انسانی بحران پر تشویش رکھتا ہے اور پہلے ہی بڑی مقدار میں امداد فراہم کر چکا ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ امریکا جنگ کے دوران اور بعد میں بھی امداد دینے کے لیے تیار ہے۔امریکی وزیر خارجہ نے مغربی کنارے کے اسرائیلی الحاق کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ یہ صرف سیاسی سطح کی بات ہے، حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔مارکو روبیو نے فلسطین کو ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کی کوششوں کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ اُنہوں نے فرانس اور دیگر ممالک کو خبردار کیا کہ ایسا اقدام خطے میں مزید عدم استحکام پیدا کرے گا۔ ان کے مطابق، فلسطین کو تسلیم کرنے سے نہ امن قائم ہوگا اور نہ ہی جنگ بندی میں مدد ملے گی بلکہ اسرائیل کی سخت کارروائیوں کا خدشہ بڑھے گا۔دوسری جانب اسرائیلی وزیر خزانہ نے مغربی کنارے کے بعض حصوں کو ضم کرنے کا مطالبہ کیا ہے، جس پر متحدہ عرب امارات نے سخت ردعمل دیتے ہوئے اسے “سرخ لکیر” قرار دیا۔ برطانیہ، فرانس اور کئی یورپی ممالک فلسطین کو تسلیم کرنے کی حمایت کرتے ہیں اور توقع ہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں یہ مسئلہ زیر بحث آئے گا۔