اسرائیلی وزیر دفاع کی یمن کے حوثیوں کو دھمکی، غزہ میں فلسطینیوں پر حملے جاری

اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے یمن کے حوثیوں کو خبردار کیا ہے کہ اگر وہ اسرائیل پر حملے جاری رکھیں تو ان پر شدید کارروائی کی جائے گی۔ یہ دھمکی اس وقت سامنے آئی جب یمن سے اسرائیل پر نئے میزائل حملوں کی خبریں موصول ہوئیں حوثیوں کا کہنا ہے کہ ان کے حملے فلسطینی عوام کی حمایت میں کیے جا رہے ہیں اور انہوں نے بحیرہ احمر میں عالمی تجارتی جہازوں کو بھی نشانہ بنایا۔ یاد رہے کہ اکتوبر 2023 سے حوثی اسرائیل پر ڈرون اور میزائل حملے کر رہے ہیں امریکہ نے اس سال حوثیوں کے زیر قبضہ یمن کے علاقوں پر فضائی کارروائیاں کیں، اور مئی میں عمان کی ثالثی سے دونوں کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ ہوا۔ تاہم حوثیوں کا کہنا ہے کہ یہ جنگ بندی اسرائیل کے خلاف کارروائیوں پر لاگو نہیں ہوتی۔ دوسری جانب اسرائیل نے غزہ شہر کے 40 فیصد حصے پر قبضے کا دعویٰ کرتے ہوئے فلسطینیوں پر حملوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ اسرائیلی فوج نے غزہ کے مضافاتی علاقوں میں پیش قدمی کی اور اب شہر کے مرکز سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر پہنچ چکی ہے غزہ کے محکمہ صحت کے مطابق جمعرات کے روز ہونے والے حملوں میں کم از کم 53 افراد شہید ہوئے۔ زیادہ تر حملے شہر میں کیے گئے، جبکہ اسرائیلی فوج نے زیتون اور شیخ رضوان علاقوں کو نشانہ بنایا اور حماس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچانے کا دعویٰ کیا۔ بریگیڈیئر جنرل ایفی ڈیفرین نے کہا: “ہم حماس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہے ہیں اور آج ہم غزہ شہر کے 40 فیصد علاقے پر قابض ہیں۔