نیٹ فلکس سیریز میں بھارت کے سفاک سیریل کلر راجہ کولندر کی لرزہ خیز کہانی بے نقاب

نئی دہلی: نیٹ فلکس پر ریلیز ہونے والی دستاویزی سیریز ’انڈین پریڈیٹر: دی ڈائری آف اے سیریل کلر‘ میں بھارت کے بدنام زمانہ مجرم راجہ کولندر کی کہانی دنیا کے سامنے آگئی ہے۔راجہ کولندر، جس کا اصل نام رام نرنجن ہے، اترپردیش میں گریڈ فور کا ملازم اور سور فارم کا مالک تھا، لیکن بظاہر عام دکھائی دینے والا یہ شخص درجنوں افراد کے قتل اور مبینہ آدم خوری جیسے سنگین جرائم میں ملوث نکلا۔ اس نے دوران تفتیش 14 افراد کو قتل کرنے کا اعتراف کیا، جب کہ پولیس کو اس کے پاس سے ایک سرخ ڈائری بھی ملی جس میں مقتولین کے نام درج تھے۔2001 میں صحافی دھیریندر سنگھ کے قتل نے اس کی درندگی کو بے نقاب کیا۔ دھیریندر کو قتل کرنے کے بعد اس کی لاش کے ٹکڑے کر کے مختلف مقامات پر پھینک دیے گئے۔ اس کے علاوہ اس پر اپنے ساتھیوں اور ایک مسلمان دوست کو بھی بےدردی سے قتل کرنے کے الزامات ہیں۔تین اقساط پر مشتمل اس سیریز میں جیل میں قید کولندر، اس کے اہل خانہ، مقتول کے ورثاء اور کیس کے تفتیشی افسر کے انٹرویوز شامل ہیں۔ ماہرینِ نفسیات کے مطابق کولندر ایک ذہنی مریض ہے جو خود کو “راجہ” اور “منصف” سمجھتا تھا۔یہ لرزہ خیز دستاویز ناظرین کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہے اور اس سوال کو جنم دیتی ہے کہ کیا واقعی راجہ کولندر صرف چند قتل کا مجرم ہے یا اس کی ڈائری میں اور بھی بھیانک راز دفن ہیں؟