کراچی: سندھ ہائی کورٹ نے شہر کے تمام عوامی پارکوں اور کھیل کے میدانوں میں تجارتی سرگرمیوں کو غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔تفصیلات کے مطابق سندھ ہائیکورٹ میں بلدیہ عظمیٰ کراچی (کے ایم سی) کی جانب سے عوامی پارکوں کے کمرشل استعمال کے خلاف دائر درخواستوں پر فیصلہ سنایا گیا۔دو رکنی بینچ جسٹس محمد فیصل کمال عالم اور جسٹس محمد حسن اکبر نے تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا کہ کے ایم سی کے پاس کسی بھی عوامی پارک یا کھیل کے میدان کو نجی اداروں کو کرائے پر دینے یا کمرشل سرگرمیوں کے لیے استعمال کرنے کا اختیار نہیں۔فیصلے میں کہا گیا کہ آئین کے آرٹیکل 140-اے کے تحت بلدیاتی اختیارات نچلی سطح تک منتقل ہونا لازمی تھے، تاہم صوبائی اسمبلی نے یہ اختیارات بلدیاتی اداروں کو منتقل نہیں کیے، اس لیے فی الحال کے ایم سی کے کمرشل اقدامات غیر قانونی تصور ہوں گے۔عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا کہ:عوامی پارک صرف عوام کے استعمال کے لیے ہی رہیں گے۔امینٹی پلاٹس کا مقصد کسی صورت تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے نام پر بھی امینٹی پلاٹ کو کمرشل سرگرمیوں کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔عدالت نے سٹی کونسل کی قرارداد نمبر 134 کو کالعدم قرار دے دیا جس کے تحت شہر کے مختلف پارک کمرشل سرگرمیوں کے لیے دیے گئے تھے۔یہ درخواست اپوزیشن لیڈر سٹی کونسل اور کراچی کے 9 ٹاؤن چیئرمینز نے دائر کی تھی، جنہوں نے بڑے عوامی پارکوں کے کمرشل استعمال پر اعتراض اٹھایا تھا۔ متاثرہ پارکوں میں عمر شریف پارک، باغ ابن قاسم، ہل پارک اور کے ایم سی اسپورٹس کمپلیکس سمیت دیگر شامل ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی واضح کیا کہ آئین کے آرٹیکل 9-اے کے تحت عوامی پارک شہریوں کے بنیادی حقوق کا حصہ ہیں، اس لیے ان کے اصل مقصد کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔