پیرس: فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے اعلان کیا ہے کہ وہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے ساتھ 22 ستمبر کو نیویارک میں اسرائیل اور فلسطین کے لیے “دو ریاستی حل” پر ایک بڑی بین الاقوامی کانفرنس کی صدارت کریں گے۔میکرون نے ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ “میں نے ابھی سعودی ولی عہد سے بات کی ہے اور ہم دونوں اس بات پر متفق ہوئے ہیں کہ نیویارک میں دو ریاستی حل کے لیے کانفرنس کی مشترکہ قیادت کریں گے۔”فرانسیسی صدر کے مطابق اس کانفرنس کا مقصد دو ریاستی حل کے لیے عالمی برادری کی وسیع ترین حمایت حاصل کرنا ہے۔ اس کے لیے مستقل جنگ بندی، تمام یرغمالیوں کی رہائی، غزہ کے لیے بڑے پیمانے پر انسانی امداد اور وہاں ایک استحکامی مشن کی تعیناتی ضروری قرار دی گئی ہے۔ میکرون نے امریکی فیصلے پر تنقید کی جس کے تحت فلسطینی صدر محمود عباس سمیت کئی اعلیٰ فلسطینی رہنماؤں کو ویزا دینے سے انکار کیا گیا ہے۔ انہوں نے اس فیصلے کو “ناقابلِ قبول” قرار دیتے ہوئے کہا کہ نیویارک کانفرنس میں مناسب نمائندگی کو یقینی بنانے کے لیے یہ فیصلہ واپس لیا جانا چاہیے۔فرانسیسی صدر نے کانفرنس کے بعد کے ممکنہ لائحہ عمل کا بھی خاکہ پیش کیا، جس کے مطابق حماس کو غیر مسلح کر کے غزہ کی حکمرانی سے الگ کیا جائے گا، فلسطینی اتھارٹی میں اصلاحات کی جائیں گی اور غزہ کی مکمل بحالی کی جائے گی۔ادھر فلسطینی اتھارٹی کے نائب وزیراعظم حسین الشیخ نے میکرون کے موقف کو سراہا اور کہا کہ فلسطینی وفد کو ویزا دینے سے انکار کانفرنس کی کامیابی کے لیے رکاوٹ ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ فلسطینی قیادت، فرانس اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر اس کانفرنس کو کامیاب بنانے میں بھرپور تعاون کرے گی۔