پاکستان شوبز انڈسٹری کے سینیئر اداکار انور علی انتقال کر گئے، ان کی فنی خدمات اور اداکاری کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔انور علی نے اپنی مزاحیہ اداکاری، شاندار ڈائیلاگ ڈلیوری اور فطری انداز سے لوگوں کے دل جیتے۔ وہ ہمیشہ اپنے فن کے ذریعے ناظرین کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیرتے رہے۔انور علی ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہوئے اور اسکول کے زمانے ہی سے اداکاری اور طنز و مزاح میں دلچسپی لیتے رہے۔ وہ ابتدا میں تھیٹر کا حصہ بنے اور لاہور کے الحمرا آرٹس کونسل سمیت مختلف گروپس کے ساتھ کام کیا۔ ان کے اسٹیج ڈرامے معاشرتی مسائل کو مزاحیہ انداز میں پیش کرنے کے باعث بے حد مقبول ہوئے۔1980 کی دہائی کے آخر میں انہوں نے ٹیلی ویژن پر کام شروع کیا اور مشہور ڈراموں ’اندھیرا اجالا‘، ’ابابیل‘، ’ہوم سویٹ ہوم‘ اور ’بیکری‘ کے ذریعے بے پناہ شہرت حاصل کی۔ فلموں میں بھی انہوں نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا، جن میں ’چوروں کی بارات‘ اور ’مولا جٹ‘ قابلِ ذکر ہیں۔شہرت کے عروج پر، 2000 کی دہائی کے وسط میں انور علی نے مذہبی رجحان کے باعث شوبز کو خیرباد کہا اور اپنی باقی زندگی سادگی و عبادت میں گزارنے کا فیصلہ کیا۔ ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ “میں نے ہمیشہ اللہ کا خوف اپنے دل میں رکھا اور یہی وجہ تھی کہ شوبز سے کنارہ کشی اختیار کی۔”انور علی کی وفات سے پاکستانی شوبز انڈسٹری ایک اور بڑے فنکار سے محروم ہوگئی ہے۔