بیلجیئم کا فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان

برسلز: بیلجیئم نے فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس اعلان کے بعد فرانس، برطانیہ، آسٹریلیا اور کینیڈا کے بعد بیلجیئم بھی ان ممالک کی فہرست میں شامل ہو گیا ہے جو رواں ماہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں فلسطین کو تسلیم کرنے جا رہے ہیں۔بیلجیئم کے وزیر خارجہ میکسم پریوٹ نے منگل کو سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ بیلجیئم اس ماہ کے آخر میں فلسطینی ریاست کو باضابطہ طور پر تسلیم کرے گا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اسرائیل کے خلاف 12 سخت پابندیاں نافذ کی جا رہی ہیں۔ ان پابندیوں میں غیر قانونی اسرائیلی آبادکاریوں سے مصنوعات کی درآمد پر پابندی، اسرائیلی کمپنیوں کے ساتھ سرکاری معاہدوں کا دوبارہ جائزہ اور اسرائیلی پروازوں اور ٹرانزٹ پر پابندی شامل ہیں۔وزیر خارجہ کے مطابق یہ اقدامات غزہ میں جاری انسانی المیے اور اسرائیل کی جانب سے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں کے جواب میں کیے جا رہے ہیں۔تاہم انہوں نے واضح کیا کہ فلسطینی ریاست کو باضابطہ تسلیم کرنے کا فیصلہ اس وقت مؤثر ہوگا جب غزہ سے تمام یرغمالیوں کو رہا کر دیا جائے گا اور اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ فلسطینی انتظامیہ میں حماس کا کوئی کردار نہ ہو۔بیلجیئم کے وزیر اعظم بارٹ ڈی ویور نے بھی گزشتہ ماہ کہا تھا کہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا معاملہ سخت شرائط سے مشروط ہونا چاہیے۔دوسری جانب فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے جولائی کے آخر میں اعلان کیا تھا کہ فرانس ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران فلسطین کو تسلیم کرے گا۔ فرانس اور سعودی عرب 22 ستمبر کو اس حوالے سے مشترکہ اجلاس کی میزبانی بھی کریں گے۔ آسٹریلیا، کینیڈا اور برطانیہ نے بھی رواں ماہ مشروط طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔اعداد و شمار کے مطابق، رواں سال اپریل تک اقوام متحدہ کے تقریباً 147 رکن ممالک (جو 75 فیصد نمائندگی رکھتے ہیں) فلسطینی ریاست کو پہلے ہی تسلیم کر چکے ہیں۔