لاہور: وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ بھارت نے وفاقی حکومت کو ایک نئے سیلابی ریلے سے آگاہ کر دیا ہے جس کے باعث پنجاب میں صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔نیوز کانفرنس میں عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ پنجاب اس وقت سپر فلڈ کی لپیٹ میں ہے، دریائے راوی، ستلج اور چناب میں بیک وقت پانی کی سطح بلند ہے۔ گزشتہ تین ماہ سے جاری مون سون کے بعد بھارت کی جانب سے پانی چھوڑا گیا، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی۔ان کے مطابق آئندہ 48 گھنٹوں میں جھنگ، ساہیوال، ٹوبہ ٹیک سنگھ، اوکاڑہ اور بہاولپور ہائی الرٹ پر ہیں، جبکہ وزیر اعلیٰ پنجاب جھنگ کے دورے پر ہیں اور حفاظتی انتظامات کا جائزہ لے رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج بڑا سیلابی ریلا ملتان میں داخل ہو سکتا ہے، جس کے لیے انتظامیہ، فوج اور ریسکیو ادارے مکمل الرٹ ہیں۔صوبائی وزیر اطلاعات نے بتایا کہ اب تک 2200 سے 2500 دیہات متاثر ہو چکے ہیں۔ سیلاب سے 16 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے جبکہ 3 لاکھ 44 ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پانی کے شدید دباؤ میں انسانی جانوں کے ساتھ مویشیوں کو بچانا بھی ترجیح ہے۔عظمیٰ بخاری نے کہا کہ ریسکیو مرحلے کے بعد پورے پنجاب کی رپورٹ تیار کی جائے گی تاکہ معلوم ہو سکے کہ کن ریور بیلٹس پر غیر قانونی آبادیاں قائم کی گئی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مریم نواز کی زیر قیادت پنجاب حکومت نے کسی غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹی کو این او سی جاری نہیں کیا۔انہوں نے مزید بتایا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے مویشیوں کے لیے “لوسٹ اینڈ فاؤنڈ ڈیپارٹمنٹ” قائم کرنے کی ہدایت کی ہے، جس کے مراکز تمام اضلاع میں بنا دیے گئے ہیں تاکہ متاثرہ افراد اپنے مویشی واپس حاصل کر سکیں۔ ڈرونز کے ذریعے مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ کسی بھی پھنسے ہوئے خاندان یا مویشی کو فوری ریسکیو کیا جا سکے۔