غزہ: (مانیٹرنگ ڈیسک) اسرائیل کی جانب سے غزہ پر وحشیانہ بمباری کا سلسلہ جاری ہے، قابض فوج نے اب بارود سے بھرے روبوٹس کے ذریعے عمارتوں کو بھی نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔تفصیلات کے مطابق غزہ پر گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی طیاروں نے زمین، فضا اور سمندر سے حملے کیے، جس کے نتیجے میں 78 فلسطینی شہید ہو گئے۔ شہدا کی مجموعی تعداد بڑھ کر 63 ہزار 371 تک پہنچ گئی، جن میں امداد کے منتظر 32 افراد بھی شامل ہیں۔بارودی روبوٹس کے ذریعے کئی عمارتوں کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا گیا ہے، جس سے شہری آبادی کو شدید نقصان پہنچا ہے۔مسجد اقصیٰ کے نیچے غیر قانونی کھدائی دوسری جانب اسرائیل مسجد اقصیٰ کے صحن کے نیچے غیر قانونی کھدائی کر کے اسلامی آثار قدیمہ تباہ کر رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیو میں کچھ افراد کو کھدائی کے بعد بڑے پتھر توڑتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔فلسطینی اتھارٹی نے اسرائیلی کارروائی کو بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا اور کہا کہ اسرائیل کا مقصد اسلامی شناخت کو مٹانا اور مسجد اقصیٰ کی جگہ یہودی عبادت گاہ قائم کرنا ہے۔
عالمی فلوٹیلا کی روانگی ادھر عالمی صمد فلوٹیلا کے جہاز بارسلونا سے غزہ کی پٹی کے لیے انسانی امداد اور کارکنوں کے ساتھ روانہ ہو گئے ہیں۔ اس قافلے میں ماحولیات کے حوالے سے سرگرم کارکن گریٹا تھنبرگ بھی شامل ہیں۔یہ سمندر کے راستے فلسطینی عوام تک امداد پہنچانے اور اسرائیلی ناکہ بندی کو توڑنے کی اب تک کی سب سے بڑی کوشش قرار دی جا رہی ہے۔