سندھ میں سپر فلڈ کا خدشہ، وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کا انتباہ

کراچی: وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے خبردار کیا ہے کہ بھارت کی جانب سے دریائے چناب میں بڑے پیمانے پر پانی چھوڑنے کے بعد صوبے میں سپر فلڈ کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔کراچی میں سینئر وزیر شرجیل انعام میمن کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے بتایا کہ نو لاکھ کیوسک سے زائد پانی کے بہاؤ کو سپر فلڈ قرار دیا جاتا ہے۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کی پیش گوئی کے مطابق پانچ ستمبر کے قریب گڈو بیراج پر آٹھ سے گیارہ لاکھ کیوسک پانی پہنچ سکتا ہے۔
سندھ حکومت کی تیاری مراد علی شاہ نے کہا کہ حکومت سندھ نے پشتوں کو محفوظ بنا لیا ہے۔ 2010 کے سیلاب کے بعد پشتے تقریباً چھ فٹ بلند کیے گئے تھے، اسی دوران گڈو بیراج پر ایک اعشاریہ ایک چار آٹھ ملین کیوسک پانی گزرا تھا۔انہوں نے بتایا کہ 2014 میں تریموں بیراج سے پانچ لاکھ نوے ہزار کیوسک پانی محفوظ طریقے سے گزر گیا جبکہ 24 اگست کو گڈو بیراج سے پانچ لاکھ پچاس ہزار کیوسک پانی بھی بغیر کسی مسئلے کے نکل گیا۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ “ہم نو لاکھ دس ہزار کیوسک تک کے بہاؤ کے لیے مکمل تیار ہیں۔”اداروں کو ہائی الرٹ مراد علی شاہ کے مطابق تمام کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ دیہاتیوں اور مویشی مالکان کو بروقت آگاہ کیا جا رہا ہے جبکہ محکمہ صحت کو بھی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود چیف سیکریٹری اور وزراء کے ساتھ صورت حال کی نگرانی کر رہے ہیں۔ ماحولیاتی تبدیلی کا چیلنج وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی ایک ناقابل تردید حقیقت ہے جس کے اثرات خطرناک حد تک بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ:”میری فوری توجہ یہ ہے کہ سندھ آئندہ 10 سے 15 دن بحفاظت گزار لے، لیکن قومی سطح پر ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے ایک جامع پالیسی ناگزیر ہے۔” کالا باغ کی وضاحت انہوں نے واضح کیا کہ پنجاب میں اونچے بہاؤ دریائے چناب، راوی اور ستلج کی وجہ سے آئے ہیں اور یہ پانی کالا باغ کی طرف موڑا نہیں جا سکتا۔ وزیراعلیٰ کی یقین دہانیآخر میں مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ نے ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے تمام تر اقدامات مکمل کر لیے ہیں اور حکومت کی اولین ترجیح انسانی جانوں، مویشیوں اور بیراجوں کا تحفظ ہے۔