آذر زوبی: پاکستان کے عظیم مصور اور مجسمہ ساز کی زندگی اور فن

پاکستان کے فنِ مصوری اور مجسمہ سازی کے شعبے میں آذر زوبی کا نام خاص مقام رکھتا ہے۔ وہ نہ صرف اپنی پینٹنگز اور مجسموں کے لیے جانے جاتے تھے بلکہ درونِ خانہ آرائش کے شعبے میں بھی ان کا کام ممتاز تھا، جس وقت یہ شعبہ زیادہ توجہ کا مرکز نہیں تھا۔آذر زوبی کو فائن آرٹسٹوں کے ساتھ ساتھ ادیبوں اور شاعروں میں بھی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ ان کے قریبی دوست اور معروف افسانہ نگار اشفاق احمد نے لکھا:”زوبی ایک عظیم آدمی، عظیم فن کار اور تخلیقی قوت ہے۔ وہ جس میدان کو فتح کرنے کا تہیہ کرتا، اسے فتح کر کے چھوڑتا۔ اس کا فن عبادت کی مانند ہے، جو دکھانے کے لیے نہیں بلکہ صرف خود کے لیے تخلیق کیا جاتا ہے۔”ابتدائی زندگی اور تعلیم
آذر زوبی کا اصل نام عنایت اللہ تھا۔ وہ 28 اگست 1922ء کو قصور میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم مکمل کرنے کے بعد 1943ء میں میو اسکول آف آرٹ لاہور سے فائن آرٹس کی تعلیم حاصل کی اور اسکالرشپ پر اٹلی گئے، جہاں 1950ء سے 1953ء تک زیرِ تعلیم رہے۔1954ء میں پاکستان واپس آ کر انہوں نے پنجاب یونیورسٹی میں اپنی پہلی سولو نمائش کی اور بعد ازاں کراچی منتقل ہو گئے۔فن اور تخلیق آذر زوبی کی مہارت صرف پینٹنگ تک محدود نہیں تھی۔ انہوں نے کتابوں کے سرورق، طغرا، تزئین و آرائش اور بڑے سائز کی ڈرائنگز بھی بنائیں۔ ان کے کام میں رئیلسٹک (realistic) اور تجریدی (abstract) دونوں عناصر موجود ہیں، اگرچہ وہ تجریدی کام کے سخت خلاف تھے۔آذر زوبی نے انسانی جسم اور اناٹمی میں مہارت حاصل کی اور خواتین کے نیوڈ اسکیچز اور ڈرائنگز میں خصوصی دلچسپی لی۔ ان کی تخلیقات کی خصوصیت یہ تھی کہ وہ بار بار ایک ہی موضوع پر مہارت اور نفاست کے ساتھ کام کرتے۔تدریس اور ادبی خدمات1956ء میں کراچی میں شعور نامی ادبی جریدہ بھی جاری کیا۔ انہوں نے آرٹس کونسل آف پاکستان کے اسکول آف آرٹس میں تدریس کی اور بعد میں اسکول کے پرنسپل بھی بنے۔ 1968ء میں اسکول آف ڈیکور قائم کیا، جہاں مصوری، مجسمہ سازی اور درونِ خانہ آرائش کی تربیت دی جاتی تھی۔اعزازات اور انتقال1980ء میں حکومت پاکستان نے آذر زوبی کو صدارتی تمغا برائے حسنِ کارکردگی سے نوازا۔ وہ یکم ستمبر 2001ء کو کراچی میں انتقال کر گئے اور ڈیفنس سوسائٹی قبرستان میں تدفین ہوئے۔آذر زوبی کا نام آج بھی پاکستان کے فنون لطیفہ کے شعبے میں یادگار حیثیت رکھتا ہے، اور ان کے کام سے آنے والی نسلیں متاثر ہوتی ہیں۔