واشنگٹن: پینٹاگون نے ڈیفنس انٹیلیجنس ایجنسی کے سربراہ جنرل جیفری کروزی کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب جنرل کروزی نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ امریکی کارروائیوں سے ایران کے ایٹمی پروگرام کو کوئی بڑا نقصان نہیں پہنچا۔ یہ مؤقف صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کے برعکس تھا کہ ایران کی ایٹمی صلاحیت مکمل طور پر تباہ کر دی گئی ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق، اس اختلاف کی بنیاد پر وائس ایڈمرل نینسی لیکور اور ریئر ایڈمرل ملٹن سینڈز کو بھی عہدوں سے ہٹا دیا گیا۔ ڈیموکریٹک رہنماؤں نے اس اقدام کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ حکومت انٹیلیجنس کو ریاست کے بجائے اپنی سیاسی وفاداری کا امتحان بنا رہی ہے۔ رپورٹوں میں مزید انکشاف ہوا کہ چند ہفتے پہلے بھی ایک ابتدائی رپورٹ نے صدر ٹرمپ کے دعوے کی تردید کی تھی کہ ایران کے جوہری مراکز فوجی حملوں میں تباہ ہو چکے ہیں۔ دوسری طرف ایران نے یورپ کے ساتھ جوہری مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کر لیا ہے۔واضح رہے کہ جنرل جیفری کروزی صدر ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت میں برطرف کیے جانے والے دوسرے اعلیٰ فوجی انٹیلیجنس افسر ہیں۔ اس سے قبل نیشنل سیکیورٹی ایجنسی (NSA) کے سربراہ جنرل ٹموتھی ڈی ہف بھی فارغ کیے جا چکے ہیں۔