کراچی میں وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیرِ صدارت ایک اہم اجلاس ہوا جس میں کمانڈر کور فائیو لیفٹیننٹ جنرل محمد دستگیر، ڈی جی رینجرز میجر جنرل محمد شمریز، آئی جی غلام نبی میمن اور اعلیٰ سول و فوجی حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کچے کے علاقے میں امن و امان ہر صورت قائم رکھا جائے گا اور اغوا برائے تاوان یا ڈکیتی کی کوئی واردات برداشت نہیں ہوگی۔ وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ 2024 سے پولیس اور رینجرز مشترکہ آپریشن کر رہی ہیں اور اب وقت آ گیا ہے کہ یہ آپریشن تیز اور فیصلہ کن انداز میں آگے بڑھایا جائے۔ مراد علی شاہ نے واضح کیا کہ جو ڈاکو ہتھیار ڈالیں گے ان کے ساتھ نرمی برتی جائے گی لیکن جو مزاحمت کریں گے ان کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔ مزید یہ کہ وزیر داخلہ کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی مانیٹرنگ کمیٹی قائم کر دی گئی ہے جس میں سیکریٹری داخلہ، ڈی جی رینجرز، آئی جی پولیس اور دیگر افسران شامل ہیں۔ آپریشن کے عمل درآمد کے لیے ایک الگ کمیٹی بھی تشکیل دی گئی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کچے میں کچھ عرصے کے لیے انٹرنیٹ بند کیا جائے گا اور ڈاکوؤں کے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس بلاک کیے جائیں گے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سندھ حکومت نے پولیس کو جدید اسلحہ اور ٹیکنالوجی فراہم کی ہے جس کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ ساتھ ہی یہ بھی طے پایا کہ علاقے میں ترقیاتی منصوبے، سڑکوں کا نیٹ ورک، تعلیم اور صحت کی سہولیات فراہم کر کے پُرامن شہریوں کی زندگی بہتر بنائی جائے گی۔