واشنگٹن میں خالصتان ریفرنڈم، سکھ کمیونٹی نے بڑی تعداد میں ووٹ کاسٹ کیے

واشنگٹن کے نیشنل پارک میں خالصتان کے حق میں ریفرنڈم کا انعقاد کیا گیا، جس میں سکھ کمیونٹی نے بڑی تعداد میں حصہ لیا۔ شرکا نے بھارتی حکومت کے مظالم کی سخت مذمت کی اور زور دے کر کہا کہ “ہم بھارتی تسلط سے آزاد ہونا چاہتے ہیں، اور بھارت سے خالصتان لے کر رہیں گے۔” یہ ریفرنڈم امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر لاس اینجلس میں مارچ میں ہونے والے کامیاب ریفرنڈم کے بعد ہوا، جس میں 30 ہزار سے زائد سکھوں نے حصہ لیا تھا۔ اس کے بعد سکھ فار جسٹس کے رہنما گرپتونت سنگھ پنوں نے واشنگٹن ڈی سی میں اگلا ریفرنڈم منعقد کرنے کا اعلان کیا تھا۔ لاس اینجلس میں ریفرنڈم کے دوران ووٹنگ صبح نو بجے شروع ہوئی اور شام پانچ بجے تک جاری رہی۔ گرپتونت سنگھ پنوں نے کہا کہ سکھ اپنی آزاد ریاست قائم کرنا چاہتے ہیں اور اپنے ووٹوں کے ذریعے بھارت کو پیغام دے رہے ہیں کہ وہ زیر تسلط نہیں رہنا چاہتے۔ انہوں نے مزید کہا، “بھارت کی گولیوں کا جواب ووٹوں سے دیں گے۔” سکھ کمیونٹی دہائیوں سے بھارتی مظالم کے خلاف آزادی کی منتظر ہے، اور خالصتان تحریک بھارتی سکھوں کے لیے علیحدہ وطن کے قیام کی تحریک ہے۔