نواب شاہ میں ایک بڑا حادثہ پیش آیا جہاں قاضی احمد ٹول پلازہ کے قریب قومی شاہراہ پر ایک ٹرالر الٹ گیا۔ اس حادثے کے نتیجے میں ٹرالر پر لدی ہوئی آٹھ قیمتی گاڑیاں مکمل طور پر تباہ ہو گئیں۔ پولیس کے مطابق، یہ ٹرالر نئی گاڑیوں سے بھرا ہوا تھا جن میں چار فارچونر، ایک ریو ڈالا اور تین گرینڈی کاریں شامل تھیں۔ ٹرالر کے کلینر نے بتایا کہ حادثہ اس وقت ہوا جب موٹروے پولیس نے ان کے ٹرالر کو چالان کرنے کے لیے روکا۔ اسی دوران پیچھے سے آنے والے ایک اور ٹرالر نے ان کے ٹرالر کو ٹکر مار دی، جس سے گاڑیوں سے لدا ٹرالر الٹ گیا۔ کراچی میں سولر پلیٹس کی مبینہ لوٹ مار اس سے قبل، مئی میں کراچی سے اوکاڑہ جانے والے سولر پلیٹس سے بھرے ایک ٹرک کو مبینہ طور پر لوٹ لیا گیا تھا۔ ٹرک کے ساتھ اس کے دو ڈرائیورز کو بھی اغوا کرنے کی اطلاعات تھیں۔ لوٹی گئی سولر پلیٹس کی مالیت ڈیڑھ کروڑ روپے سے زائد بتائی گئی تھی۔ متاثرہ ٹرک کے مالک محمد ابرار نے دعویٰ کیا کہ خالی ٹرک شکارپور کے علاقے میں لاوارث حالت میں ملا۔ تاہم، ان کا کہنا ہے کہ پولیس مقدمہ درج کرنے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ ابرار کے مطابق، ٹرک میں 720 سولر پلیٹس موجود تھیں جو 23 مئی کو کراچی سے روانہ ہوئی تھیں۔ وہ تین دن سے تھانے کے چکر لگا رہے ہیں لیکن ایس ایچ او نے مقدمہ درج کرنے سے انکار کر دیا ہے۔