گزشتہ روز کراچی کے علاقے کیماڑی، گلشن سکندرآباد میں گھر سے نوبیاہتا لڑکی کی خون میں لت پت لاش ملی تھی، مقتولہ 18 سالہ خدیجہ کو نامعلوم افراد نے تیز دھار آلے سے گلا کاٹ کر قتل کیا تھا۔ جیکسن پولیس نے لڑکی کے قتل کا مقدمہ اس کے والد امام بخش کی مدعیت میں درج کر لیا ہے، جس میں قتل کی دفعات شامل کی گئی ہیں، ایف آئی آر میں والد نے کہا کہ ’’مجھے اطلاع ملی کہ میری بیٹی خدیجہ کو کسی نے گھر کے اندرقتل کر دیا ہے، جب میں گھر میں پہنچا تو میری بیٹی کی لاش بیڈ روم میں خون میں لت پت حالت میں پڑی تھی۔‘‘ ایف آئی آر کے مطابق والد کا کہنا تھا کہ نامعلوم افراد نے نامعلوم وجوہ پر میری بیٹی کو قتل کیا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مقدمے میں نامعلوم افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔ ادھر پولیس نے ضابطے کی کارروائی کے بعد لاش ورثا کے حوالے کر دی ہے، ورثا لاش لے کر آبائی علاقے ڈسٹرکٹ وہاڑی پنجاب روانہ ہو گئے ہیں۔ مقتولہ کے والد امام بخش نے بتایا کہ ان کی بیٹی خدیجہ کا کچھ عرصہ قبل نکاح ہوا تھا، اور رخصتی ہونا باقی تھی، جس وقت واقعہ پیش آیا گھر میں بیٹی کے علاوہ کوئی دوسرا گھر کا فرد موجود نہیں تھا۔