کرم میں دونوں فریقین کے مورچے مسمار کرنے کا عمل شروع نہ ہوسکا، ایک فریق نے دوسرے فریق کے مورچ مسمار کرنے کی شرط عائد کردی، پولیس کی جانب سے فریقین سے مذاکرات بھی جاری ہیں۔ کرم بلشخیل میں سنگینہ مورچے مسمار کرنے کے لیے انتظامیہ و پولیس کی ٹیمیں پہنچ گئیں تاہم مسماری کا عمل شروع نہ ہوسکا۔ ذرئع کا کہنا ہے کہ ایک فریق سے بات کی گئی ہے کہ جب تک دوسرے فریق کے مورچے مسمار نہیں ہوتے تب تک ہم اپنے مورچے مسمار نہیں ہونے دیں گے۔ اس وقت کرم بلشخیل اور خارکلے میں سیکیورٹی فورسز تعینات ہیں جب کہ کرم بلشخیل میں چار ہیلی کاپٹروں کے ذریعے مسلسل فضائی نگرانی کی جارہی ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ روزبوشہرہ ، بالش خیل اور خار کلی میں دونوں متحارب قبائل کے بنکرز کو مسمار کیا جانا تھا۔ دوسری جانب مندور ی میں دھرنے اور راستہ کلیئر نہ ہونے کی وجہ سے اشیائے ضروریہ کا دوسرا قافلہ پارا چنار روانہ نہ ہوسکا ، پارا چنار میں گیس،پٹرولیم مصنوعات اور اشیائے خورونوش کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے ۔ ذرائع کا بتانا ہے کہ ٹل کے مقام پر 80سے زائد سامان سے لدھے ٹرک پارا چنار روانگی کیلئے راستہ کلیئرہونے کے منتظر ہیں۔