22

حکومتی اقدامات سے معیشت میں نمایاں بہتری آئی ہے، ہم اپنے اقدامات سے نان فائلر کی اختراع ہی ختم کر دیں گے: وزیر خزانہ

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومتی اقدامات سے معیشت میں نمایاں بہتری آئی ہے، ہم اپنے اقدامات سے نان فائلر کی اختراع ہی ختم کر دیں گے۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ میکرو استحکام پر بہت باتیں ہوچکی ہیں، سمجھنا چاہیئے کہ میکرو استحکام ہمیں کیوں چاہیے، نئے مالی سال میں جانے سے پہلے کوشش تھی کہ ہم سارا بیک لاگ ختم کر سکیں، مئی کے آخر تک سارا بیک لاگ ختم کیا جا چکا ہے، ملک میں معاشی استحکام آ رہا ہے، زرمبادلہ ذخائر 9 ارب ڈالر ہیں، مہنگائی کی شرح 38 سے کم ہو کر 12 فیصد پر آئی انہوں نے کہا کہ عالمی بینک نے داسو منصوبے کیلئے ایک ارب ڈالر کی منظوری دی ہے، آئی ایف سی نے پی ٹی سی ایل کیلئے 40 کروڑ ڈالرز منظور کئے ہیں وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ میکرو اسٹیبلیٹی اس وقت بڑا چیلنج ہے، میکرو اسٹیبلیٹی کو ہم نے مستقل کرنا ہے اور یہ انتہائی ضروری ہے، جو میکرو اشارے ہیں وہ آگے پیچھے ہوگئے تو ہم مائیکرو مغیرات پر ضرور آئیں گے لیکن اگر میکرو اسٹیبلیٹی لڑکھڑا گئی تو بڑا نقصان ہوگا انہوں نے بتایا کہ ایف بی آر نے کر کے دکھایا ہے کہ 30 فیصد پر گروتھ ہوسکتی ہے، ہم اگلے 3 سال میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی کو 13 فیصد پر لے جا رہے ہیں، اگلے سال ٹیکس ٹو جی ڈی پی ساڑھے 10 فیصد پر لے جانے کا امکان ہے، ایف بی آر کی اینڈ ٹو اینڈ ڈیجیٹلائزیشن ہونے جا رہی ہے۔ محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ توانائی اور پٹرولیم کے شعبے میں اصلاحات کریں گے، مفتاح اسماعیل صاحب نے ریٹیلرز پر ٹیکس لگانے کا کہا تھا، ریٹیلرز پر ٹیکس لگ جانا چاہیے تھا، جولائی سے ریٹیلرز پر ٹیکس لگ جائے گا، 42ہزار ریٹیلرز کی رجسٹریشن ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں بھی کہا نان فائلر کی اختراع مجھے سمجھ نہیں آ رہی، ہم نان فائلرز کی اختراع ملک سے باہر نکالیں گے، وزراء سیلری نہیں لے رہے، اپنی یوٹیلیٹی بل بھی خود ادا کررہے ہیں وزیر خزانہ نے بتایا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ پر سندھ حکومت کام کر رہی ہے، پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کو یہاں بھی زیادہ سے زیادہ لایا جائے، پنشن بجٹ کا حصہ نہیں تھا لیکن ای سی سی میں اس پر گفتگو ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ تعمیراتی شعبے کو بھی ٹیکس نیٹ میں لا رہے ہیں، ایک چیز کا اعلان کرنا بہت آسان ہوتا ہے، جلد عملدرآمد بھی آپ سنیں گے، تمام بڑے ایریاز پر ہم کام کر رہے ہیں۔ محمد اورنگزیب نے کہا کہ وزیراعظم کہتے ہیں یہ آئی ایم ایف کا آخری پروگرام ہوگا، ہم بھی یہی چاہتے ہیں، خواہش بھی ہے کہ یہ آئی ایم ایف آخری پروگرام ہوگا، معاشی استحکام سے بیرونی اداروں کا اعتماد بحال ہوچکا ہے، ایف بی آر میں جتنا انسانی عمل کم ہوگا کرپشن کم ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ سیلز ٹیکس میں 750 ارب کی کرپشن سامنے آئی، زراعت اور آئی ٹی ہمارے گروتھ سیکٹرز ہیں، 70 روپے زیادہ سے زیادہ پٹرولیم لیوی ہے، 70 روپے پی ڈی ایل کا فوری اطلاق نہیں ہو رہا وفاقی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کے بارے میں بہت باتیں ہوئی ہیں، آئی ایم ایف پروگرام ناگزیر ہے، اس کے بغیر ہم آگے نہیں چل سکتے، آئی ایم ایف پروگرام پر ہماری مثبت پیش رفت ہو رہی ہے، ہم نے آئی ایم ایف پروگرام کو آگے لیکر جانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آسان ہوتا ہے استحکام چھوڑ دیں، ترقی کی طرف چلے جائیں، نئے ٹیکسوں کی وجہ سے لوگ دباؤ محسوس کر رہے ہیں، ہماری بجٹ کے سلسلے میں آئی ایم ایف سے مشاورت رہی ہے، واضح کہتا ہوں مائیکرواکنامک استحکام کیلئے آئی ایم ایف پروگرام ضروری ہے محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ اس میں کوئی شک نہیں تنخواہ دار طبقے پر بوجھ بڑھ رہا ہے، معاشی صورتحال بہتر ہوتے ہی ہم تنخواہ دار طبقے کو سب سے پہلے ریلیف دیں گے، نئی پنشن سکیم پر کل سے اطلاق ہوگا، ریلیف اسی صورت آسکتا ہے کہ محصولات آپ کے اخراجات سے کم ہوں۔ انہوں نے بتایا کہ 30 جون تک کے ٹیکس ری فنڈدو سے تین دن میں کلیئر کر دیں گے، اگلے سال ہم انٹرنیشنل کیپیٹل مارکیٹ میں پانڈا بانڈز کے ساتھ ہوں گے، برآمدات بڑھائیں گے برآمدات پر ٹیکس نہیں، انکم پر ٹیکس ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ پرائیویٹائزیشن سیکٹر میں خود بھی چل کر آیا ہوں، بینکس بھی سارے پرائیوٹائزیشن سیکٹر پر چل کر ہی آگے بڑھے ہیں، پہلے نکالا بھی گیا اب بینکوں میں ہائرنگ بھی دبا کر ہو رہی ہیں، آؤٹ سورسنگ اور پرائیویٹائزیشن پر کام ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف سے طویل المدتی معاہدہ کرنے جا رہے ہیں، بجٹ آئی ایم ایف کی مشاورت سے تیار ہوا ہے، ایسے نہیں ہوسکتا کہ آپ کوئی محکمہ بند کر دیں، جو پراجیکٹس چل رہے ہیں وہ کہاں جائیں گے محمد اورنگزیب نے کہا کہ سی پیک ٹو کے تحت پاکستان میں برآمدات بڑھیں گی، صوبوں سے ریونیو اور اخراجات پر مشاورت شروع کی ہے، صوبوں کو کہہ رہے ہیں کہ اپنے اخراجات خود اٹھائیں، ایسے منصوبے جو صرف صوبوں کے ہیں وہ صوبے ہی اپنے سالانہ پلان میں لے کر آئیں، تالی دونوں ہاتھوں سے بجے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں