18

مشکل حالات میں بجٹ بنایا، وفاق سندھ کو بھی پاکستان سمجھ کر ترقیاتی اسکیمیں دے:وزیراعلیٰ سندھ

وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ مشکل حالات میں بجٹ بنایا گیا ہے، شرح نمو کا ہدف حاصل کریں گے۔ وفاق سندھ کو بھی پاکستان سمجھے اور یہی سمجھ کر سندھ کو ترقیاتی اسکیمیں دینی چاہییں۔کراچی میں پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس کرتے ہوئے سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ کہ بجٹ کا کل حجم 3 ہزار 56 ارب ہے، یہ بجٹ پچھلے سے 34 فیصد زیادہ ہے، ہم اگلے سال میں مزید گروتھ کی طرف جائیں گے، سندھ حکومت کا بجٹ ہر سال زیادہ ہوتا ہے انہوں نے کہا کہ اگلے سال کیلئے ساڑھے 3 فیصد جی ڈی پی گروتھ کی بات کی جا رہی ہے، کوشش کریں گے جی ڈی پی کے حوالے سے وفاق کے ساتھ پورے طریقے سے تعاون کریں۔ وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ کہ ہمیں وفاق سے 1900 ارب روپے ملنے کی توقع ہے، کم ازکم 37 ہزار تنخواہ سے مطمئن نہیں ہوں، بجٹ میں پرانی سکیمیں مکمل کرنے پر زور رہے گا، سندھ کابینہ نے فیصلہ کیا ہے نئی سکیم شامل نہیں کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ نگران دور میں نئی سکیموں کو روک دیا گیا تھا، سیلاب زدگان کی سکیموں کو بند کیا گیا، ہمارا ڈویلپمنٹ کا بجٹ باقی سب صوبوں سے زیادہ ہے، ہم بڑی آسانی سے پانچ سو ارب روپے کی نئی سکیمیں ڈال سکتے تھے، ہم نہ پہلی بار حکومت کر رہے ہیں نہ آخری بار کرنے جا رہے، ہم لانگ ٹرم منصوبہ بندی کرتے ہیں مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے فری بجلی کا کہا تھا، ہم نے وہ بھی اس بجٹ میں رکھا ہے، ہم سولر سسٹم نصف کرنے جارہے ہیں، سندھ میں فری بجلی دینے کی شروعات کر رہے ہیں، صوبے کے ہر شہری کو پینے کا صاف پانی ملے گا، معذور افراد کیلئے الگ ہسپتال اور پارک تعمیر ہوگا۔ خیال رہے کہ گزشتہ روز وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے آئندہ مالی سال کا 3 ہزار 56 ارب روپے کا بجٹ پیش کیا، جس میں تنخواہوں میں 22 سے 30 فیصد جبکہ پنشن میں 15 فیصد کا اضافہ کیا گیا ہے مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے فری بجلی کا کہا تھا، ہم نے وہ بھی اس بجٹ میں رکھا ہے، ہم سولر سسٹم نصف کرنے جارہے ہیں، سندھ میں فری بجلی دینے کی شروعات کر رہے ہیں، صوبے کے ہر شہری کو پینے کا صاف پانی ملے گا، معذور افراد کیلئے الگ ہسپتال اور پارک تعمیر ہوگا۔ خیال رہے کہ گزشتہ روز وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے آئندہ مالی سال کا 3 ہزار 56 ارب روپے کا بجٹ پیش کیا، جس میں تنخواہوں میں 22 سے 30 فیصد جبکہ پنشن میں 15 فیصد کا اضافہ کیا گیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں