19

فنونِ لطیفہ کا اہم باب بند:ٹی وی، فلم، تھیٹر کے عظیم اداکار اور صداکار طلعت حسین طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے

معروف اداکار، صدا کار اور ہدایت کار طلعت حسین طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے۔ طلعت حسین کے انتقال کی افسوسناک خبر اُن کی صاحبزادی تزین حسین نے اپنے آفیشل انسٹاگرام ہینڈل کی پوسٹ کے ذریعے دی۔ تزین حسین نے اپنے انسٹاگرام ہینڈل پر والد طلعت حسین کی تصویر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ میں گہرے رنج و غم کے ساتھ یہ اعلان کررہی ہوں کہ میرے پیارے والد طلعت حسین صاحب خالقِ حقیقی سے جا ملے ہیں۔ اُنہوں نے مداحوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ میرے والد طلعت حسین کی مغفرت کیلئے دُعا کریں۔ اداکار طلعت حسین کے بیٹے اشعر حسین کا کہنا ہے کہ تمام فیملی ممبرز کراچی پہنچ چکے ہیں، طلعت حسین کی نمازجنازہ نمازعصر کے بعد ادا کی جائے گی جبکہ ڈیفنس فیز 8 کے قبرستان میں تدفین کی ہو گی طلعت حسین بھارت کے شہر دہلی میں 1940 میں پیدا ہوئے تھے، طلعت حسین کا تعلق پڑھے لکھے اور روشن خیال گھرانے سے تھا،ان کے والد تقسیمِ ہندسے پہلے سرکاری ملازم تھے اور والدہ ریڈیو پر شوقیہ پروگرام کیا کرتی تھیں، طلعت حسین کے علاوہ ان کا ایک اور بھائی بھی تھا، یہ لوگ دہلی سے ہجرت کر کے پاکستان آئے۔ پاکستان ٹیلی ویژن پر انھوں نے کام کا آغاز 1967ء سے کیا، طلعت حسین اداکاری کے شعبے میں اکادمی کا درجہ رکھتے تھے، نیشنل اکادمی آف پرفارمنگ آرٹ میں آپ کی خدمات قابل قدر ہیں، انھوں نے پاکستان کے باہر بھی کئی چینلز پر اداکاری کی، 1971ء کی جنگ کے دوران ریڈیو پر ایک پروگرام کیا تھا’’کیا کرتے ہو مہاراج‘‘ جو جنگ ختم ہونے تک جاری رہا1972ء میں ان کی شادی پروفیسر رخشندہ سے ہوئی، ان کے دو بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے۔ ان کے مشہور ڈراموں میں طارق بن زیاد، بندش، دیس پردیس ،عید کا جوڑا، فنون لطیفہ، ہوائیں ،اک نئے موڑ پہ، پرچھائیاں، دی کاسل ، ایک امید ، ٹائپسٹ، انسان اور آدمی ،رابطہ، نائٹ کانسٹیبل ، درد کا شجر اور کشکول شامل ہیں طلعت حسین نے ڈراموں کے ساتھ فلموں میں بھی اداکاری کے جوہر دکھائے ان فلموں میں چراغ جلتا رہا، گمنام، انسان اور آدمی، جناح ، ان پورٹ ، ایکسپورٹ ، ناروے، لاج ، قربانی ،سوتن کی بیٹی (انڈین)، اشارہ ،آشنا، بندگی، محبت مر نہیں سکتی شامل ہیں،انہیں بہترین اداکاری کے اعتراف میں 1983 سے 1985تک تمغائے حسن کارکردگی برائے فنون سے بھی نوازاگیا۔ واضح رہے کہ معروف اداکارطلعت حسین کچھ عرصہ سے ذہنی بیماری ڈیمنشیا کا شکار تھے اور انہیں سینے میں بھی انفیکشن تھا، چند ماہ قبل اداکار طلعت حسین کی بیٹی تزین حسین نے بتایا تھا کہ ڈیمنشیا کی وجہ سے والد کی یادداشت متاثر ہو رہی ہے اور کبھی کبھی اُنہیں لوگوں کو پہچاننے میں مشکل ہوتی ہے وزیر اعظم شہباز شریف نے اداکار طلعت حسین کی وفات پر گہرے رنج کا اظہار کیا ہے اور مرحوم کی درجات کی دعا کی اپنے تعزیتی پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ طلعت حسین نے اپنی جاندار اداکاری سے فن کی دنیا اور شائقین کے دلوں میں جگہ بنائی ۔ شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ پی ٹی وی ، تھیٹر، فلم اور ریڈیو کیلئے ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی ، ان کی وفات سے جو خلا پیدا ہوا ہے وہ کبھی پُر نہیں ہو گا وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے بھی ناموراداکار طلعت حسین کے انتقال پر اظہار افسوس کیا، مریم نواز شریف نے طلعت حسین کے اہل خانہ سے اظہارِ ہمدردی و تعزیت کی۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے مرحوم طلعت حسین کی فنی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ طلعت حسین فن اداکاری میں اپنی مثال آپ تھےوفاقی وزیر اطلاعات عطاءاللہ تارڑ کا ٹی وی، فلم، تھیٹر اور ریڈیو کے عظیم اداکار اور صداکار طلعت حسین کے انتقال پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم طلعت حسین ایک حقیقی استاد تھے، ان کی وفات سے فنون لطیفہ کی دنیا ایک عظیم فنکار سے محروم ہو گئی ہے، اللہ تعالیٰ مرحوم کو اپنے جوار رحمت میں اعلیٰ مقام اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے معروف اداکار طلعت حسین کے انتقال پر دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ طلعت حسین ورسٹائل فنکار تھے ،طلعت حسین کے یادگار ڈرامے پرستار آج بھی نہیں بھولے، طلعت حسین کے انتقال سے اداکاری کا خوبصورت دور ختم ہوا ہے وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمیٰ بخاری نے لیجنڈ اداکار طلعت حسین کے انتقال پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ محروم پاکستان کی شوبز انڈسٹری کا ایک بڑا نام تھے، پاکستان سمیت دنیا بھر میں طلعت حسین کے چاہنے والے آج افسردہ ہیں، طلعت حسین کے انتقال پر انکے اہلخانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کرتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں