28

آرڈیننس لانے ہیں تو پھر پارلیمنٹ بند کر دیں:سپریم کورٹ نے نیب ترامیم کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی

سپریم کورٹ نے نیب ترامیم کے خلاف درخواستوں پر سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی، دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیئے کہ اگر آرڈیننس لانے ہیں تو پھر پارلیمان کو بند کر دیں۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بنچ نے نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کے خلاف حکومتی اپیلوں پر سماعت کی، جسٹس امین الدین، جسٹس جمال مندوخیل ،جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس حسن اظہر رضوی بنچ کا حصہ ہیں سماعت کے آغاز پر بانی پی ٹی آئی کو ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش کر دیا گیا، سابق وزیراعظم نے سکائی بلیو شرٹ پہن رکھی ہے، کیس کی سماعت براہ راست نہیں دکھائی جا رہی۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے اٹارنی جنرل کو روسٹرم پر بلا لیا، وکیل خواجہ حارث بھی روسٹرم پر آگئے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے خواجہ حارث سے مکالمہ کیا کہ آپ اصل کیس میں وکیل تھے، آپ کے نہ آنے پر مایوسی تھی، ہم آپ کے مؤقف کو بھی سننا چاہیں گے، کیا بطور وکیل آپ نے فیس کا بل جمع کرایا؟ اس پر وکیل خواجہ حارث نے جواب دیا کہ مجھے فیس نہیں چاہیے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آپ تمام وکلا سے سینئر ہیں۔ بعد ازاں وفاقی حکومت کے وکیل مخدوم علی خان نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں نیب ترامیم کا معاملہ زیر التوا ہے اس موقع پر جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ مخدوم علی خان آپ اونچی آواز میں دلائل دیں تاکہ ویڈیو لنک پر موجود بانی پی ٹی آئی بھی آپ کو سن سکیں۔ جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ کیا اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر التوا درخواست سماعت کیلئے منظور ہوئی؟ وکیل وفاقی حکومت نے بتایا کہ جی درخواست سماعت کیلئے منظور ہو چکی ہے، جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ سے نیب ترامیم کے خلاف کیس کا مکمل ریکارڈ منگوا لیں چیف جسٹس نے خواجہ حارث سے استفسار کیا آپ اس کیس میں وکالت کریں گے؟ وکیل نے بتایا کہ جی میں عدالت کی معاونت کروں گا۔ بعد ازاں عدالت نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں نیب ترامیم کیس پر ہونے والی سماعتوں کا حکم نامہ طلب کر لیا۔ واضح رہے کہ گزشتہ سماعت پر سپریم کورٹ نے قومی احتساب بیورو ترامیم کو کالعدم قرار دینے کے خلاف سماعت کے دوران بانی پی ٹی آئی کو بذریعہ وڈیولنک پیش ہونے کی اجازت دی تھی چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں نیب ترامیم کیخلاف درخواست کب داٸر ہوئی؟ وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست 4 جولائی 2022 کو دائر ہوئی، سپریم کورٹ والی درخواست کو نمبر 6 جولائی 2022 کو لگا، سماعت 19 جولائی کو ہوئی۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ مرکزی کیس پر اتنا زیادہ عرصہ کیوں لگا تھا جس پر مخدوم علی خان نے کہا کہ 2022 کا پورا سال درخواست گزار کے وکیل نے دلائل دیئے۔ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ نیب کا پورا آرڈیننس بنانے میں کتنا عرصہ لگا تھا جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ مشرف نے 12 اکتوبر کو اقتدار سنبھالا اور دسمبر میں آرڈیننس آچکا تھا، مشرف نے دو ماہ سے کم عرصے میں پورا آرڈیننس بنا دیا تھا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ چند ترمیم سے متعلق کیس سننے میں اتنا زیادہ عرصہ کیوں لگا جس پر وفاقی حکومت کے وکیل نے کہا کہ کیس قابل سماعت ہونے کی بحث میں ہی کافی وقت لگا، ہم تو چاہتے تھے کیس جلد ختم ہو، میرے علاوہ بہت سے وکلاء نے دلائل دیئے تھےجسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ مرکزی کیس کی کتنی سماعتیں ہوئی تھیں؟ جس پر مخدوم علی خان نے جواب دیا کہ مرکزی کیس کی مجموعی طور پر 53 سماعتیں ہوئی تھیں۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہوتے ہوئے یہ کیس سپریم کورٹ میں کیسے قابل سماعت ہوا؟ کیا مرکزی کیس کے فیصلے میں عدالت نے اس سوال کا جواب دیا تھا؟ مخدوم علی خان نے جواب دیا کہ جی ہاں عدالت نے فیصلے میں اس معاملے کا ذکر کیا تھا۔ وکیل مخدوم علی خان نے سپریم کورٹ کے فیصلے کا متعلقہ پیراگراف عدالت میں پڑھ دیا۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ یہ تو بڑا تعجب ہے کہ نیب ترامیم کیس 53 سماعتوں تک چلایا گیا، چند ترامیم سے متعلق کیس سننے میں اتنا زیادہ عرصہ کیوں لگاجسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ 2023 میں الیکشن کیس ایسی ہی وجوہات پر ہم دو ججز نے ناقابل سماعت کر دیا تھا، ہم نے کہا تھا جو کیس ہائیکورٹ میں زیر التوا ہے اس میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے، اگر تب لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عمل ہوتا تو الیکشن بروقت ہو جاتے، لاہور ہائیکورٹ نے جو الیکشن کا فیصلہ دیا تھا اس کیخلاف انٹرا کورٹ حکم جاری نہیں ہوا تھا۔ چیف جسٹس نے استفسار کہ الیکشن کے معاملے پر سپریم کورٹ نے جو فیصلہ دیا اس کا آرڈر آف کورٹ کہا ہے؟ جس پر مخدوم علی خان نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ وہ آرڈر اسی نکتے پر اختلاف کی وجہ سے جاری نہیں ہوا چیف جسٹس نے مزید ریمارکس دیئے کہ اگر کوئی مقدمہ عدالت آئے تو اسے روزانہ کی بنیاد پر سن کر فیصلہ کرنا چاہیے، قانون کو معطل کرنا بھی نظام کے ساتھ ساز باز کرنا ہے۔ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ہم میرٹ پر چلتے تو بہتر ہوتا، چیف جسٹس نے کہا کہ قانون کو معطل کرنے کے بجائے روزانہ کی بنیاد پر سن کر فیصلہ کرنا چاہیے تھا۔ اس پر جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کی شق دو کے تحت اپیل متاثرہ شخص کر سکتا ہے، حکومت متاثرہ فرد کیسے ہوتی ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر سپریم کورٹ کسٹم ایکٹ کالعدم قرار دے تو کیا حکومت اپیل نہیں کرسکتی؟ حکومتی وکیل مخدوم علی خان نے دلائل دیئے کہ بالکل حکومت اپیل کر سکتی ہے، چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ پھر آگے بڑھیں۔ دوران سماعت بانی پی ٹی آئی ساتھ بیٹھے شخص سے باتیں کرتے رہے وفاقی حکومت کے وکیل مخدوم علی خان نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے بتایا کہ 2022 کے فالو اپ پر 2023 کی ترامیم بھی آئیں تھیں، عدالت نے فیصلے میں 2022 کی ترامیم ہی کالعدم قرار دیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ تو آپ ٹیکنیکل اعتراض اٹھا رہے ہیں جس پر وکیل مخدوم علی کا کہنا تھا کہ یہ ٹیکنیکل اعتراض بھی موجود ہے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم ان سوالات پر بانی پی ٹی آئی سے جواب لیں گے، بانی پی ٹی آئی یہ نکات نوٹ کر لیں، چیف جسٹس ریمارکس کے ساتھ زیر لب مسکرا دیئے، بانی پی ٹی آئی چیف جسٹس کی زیر لب مسکراہٹ دیکھ کر منہ پر ہاتھ رکھ کر مسکرائے مخدوم علی خان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی وزیر اعظم تھے قانون بدل سکتے تھے مگر آرڈیننس لائے، نیب ترامیم کا معاملہ پارلیمانی تنازعہ تھا جسے سپریم کورٹ لایا گیا، یہ ملی بھگت سے معاملہ سپریم کورٹ لایا گیا، عدالت نے وکیل مخدوم علی خان کو ایسے الفاظ استعمال کرنے سے روک دیا جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ کیا کسی بل پر کوئی پارٹی رکن اپنی پارٹی فیصلے کیخلاف ووٹ دے سکتا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اس معاملے پر نظرثانی درخواست موجود ہے۔ جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ مخدوم صاحب کرپشن کے خلاف مضبوط پارلیمان، آزاد عدلیہ اور بے خوف لیڈر کا ہونا ضروری ہے، کیا آپ سمجھتے ہیں کہ یہ تینوں چیزیں موجود ہیں، یہاں تو اسے ختم کرنے کیلئے کوئی اور آرڈیننس لایا جا رہا ہے چیف جسٹس نے کہا کہ آرڈیننس لانے ہیں تو پھر پارلیمنٹ کو بند کر دیں، آرڈیبنس کے ذریعے آپ ایک شخص کی مرضی کو پوری قوم پر تھونپ دیتے ہیں، کیا ایسا کرنا جمہوریت کے خلاف نہیں، کیا آرڈیننس کے ساتھ تو صدر مملکت کو تفصیلی وجوہات نہیں لکھنی چاہئیں۔ جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ پارلیمان کو مضبوط بنانا سیاستدانوں کا ہی کام ہے۔ بعد ازاں عدالت نے سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کرتے ہوئے بانی پی ٹی آئی کو آئندہ سماعت پر بھی ویڈیو لنک پر پیش کرنے کی ہدایت جاری کر دی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں