20

ایک ارب ڈالر کی گندم در آمد کیوں کی گئی،سابق نگران وزیر اعظم کو حفاظتی تحویل میں لینا چاہیے:حافظ نعیم الرحمٰن

امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا ہے کہ سابق نگران وزیر اعظم انوارالحق کاکڑ کو حفاظتی تحویل میں لینا چاہیے۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جو زیادہ گندم امپورٹ کی گئی ہے تو اس پورے عمل میں ایک جیسے لوگ موجود تھے، نگران اور پی ڈی ایم حکومت ایک ہی جیسے تھے، نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ کے بیان پر ان کو حفاظتی تحویل میں لینا چاہیے جس میں انہوں نے حنیف عباسی صاحب کو بولا تھا کہ اگر میں نے فارم 47 سے متعلق ساری باتیں بتادی تو سب بے نقاب ہوجائے گا اور تم کہیں کے بھی نہیں رہو گے، کاکڑ صاحب کو حفاظتی تحویل میں لیا جائے اور ان سے تحقیقات کی جائیں اور پوچھا جائے کے جب پیسے کی کمی تھی تو کیوں ایک ارب ڈالر کی گندم در آمد کی گئی، اور کون لوگ یہ کام کر رہے تھے؟ گندم ابھی بھی امپورٹ ہوئی، اب لوگ فصل اگانے پر ہچکچائیں گے، جب فصل ہوتی تو یوریا غائب ہوجاتی، بلیک میں بکتی ہیں انہوں نے کہا کہ گوادر کے ماہی گیروں کو مسائل کا سامنا ہے، سی پیک میں بلوچستان کے لیے کوئی حصہ نا ہو تو ملک میں احساس محرومی پیدا ہوتی ہے، بلوچستان میں گیس نکلنےکے باوجود فراہم نہیں کی جارہی، ایسے موقع کا فائدہ بیرونی قوتیں اٹھاتی ہیں، پھر ریاست کہتی ہے کہ رٹ قائم کرنی چاہیے تو اس سے پہلے ریاست کو اپنی ذمہ داری پوری کرنی چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ جس طرح انتظامات کیے جارہے ہیں اور فارم 45 کے بجائے فارم 47 سے حکومتیں قائم کی جارہی ہیں اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا، ابھی جو حکومت ہے وہ جعلی ہے، اس کا عوامی رائے سے کوئی تعلق نہیں، ایک کیو ایم، پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) کو عوام نے مسترد کردیا لیکن پھر بھی ان کو ہم پر مسلط کردیا ہے، جب تک فارم 47 کی حکومت رہے گی پاکستان کے آگے بڑھنے کے امکانات معدوم ہیں حافظ نعیم الرحمٰن کا کہنا تھا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ چیف جسٹس فارم 45 سے متعلق جوڈیشل کمیشن قائم کریں، الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل در آمد نہیں کیا مخصوص نشستوں کے حوالے سے تو یہ تو حال ہے ہمارے اداروں کا۔ انہوں نے بتایا کہ غزہ میں صورتحال تشویشناک ہے، 3 ہزار سے زائد کارروائیاں کی اسرائیل نے غزہ میں پچھلے 7 ماہ میں، اتنے بڑے پیمانے پر قتل عام ہورہا لیکن مسلم حکمران نے کیا رد عمل دیا؟ وہاں انسانی المیہ پیدا ہوگیا اور اس پر حال یہ ہے کہ امریکا نے 26 ارب ڈالر کی اسلحہ کی امداد منظور کردی ہے، مسلم حکمرانوں نے کونسی ذمہ داری ادا کی؟ ایک طرف امریکا کہتا ہے کہ ہم نے منسوخ کردیا تو دوسری طرف بلنکن کہتا ہے کہ اسرائیل محدود کارروائی کرسکتا ہے غزہ پر تو یہ دورا معیار ہے امریکا کا، امریکا انسانیت کو کچلتا ہے، وہ اسرائیل کا سرپرست ہے امیر نے کہا کہ اگر اس المیہ میں ہم اپنے گھر کا سوچیں گے تو جو گھر کا حال ہے وہ تو سب نے دیکھ لیا ہے، پشاور میں 19 مارچ کو بہت بڑا غزہ مارچ ہوگا، پوری دنیا کی یونیورسٹیز میں نوجوان اٹھ کھڑے ہوئے ہیں، ان پر تشدد ہو رہا ہے، اسرائیل اگر بچوں پر تشدد کر رہا ہے تو اسے طاقت مسلم حکمرانوں نے خاموش رہ کر طاقت دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں میرٹ کی بنیاد پر کام ہونا چاہیے، ملک میں قانون پر عملدر آمد نہیں ہورہا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں